یونان: دوسری جنگ عظیم کے بم کے باعث 70 ہزار لوگوں کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بم گذشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا جب قریبی پٹرول پمپ کے فیول ٹینک کی توسیع کا کام جاری تھا

یونان کے شہر تھیسالونكی سے 70 ہزار کے قریب لوگوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ دوسری عالمی جنگ کے دنوں کے ایک بم کو ناکارہ بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم تقریباً پانچ سو پونڈ وزنی ہے اور یونان میں اب تک ملنے والا سب سے بڑا بم ہو سکتا ہے۔

* ’1950 میں گم ہونے والا ایٹم بم شاید مل گیا‘

* جرمنی: دوسری جنگ عظیم کا بم ملنے کے بعد 20 ہزار افراد کا انخلا

یہ بم گذشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا جب قریبی پٹرول پمپ کے فیول ٹینک کی توسیع کا کام جاری تھا۔ اس بم کو اتوار کے روزناکارہ بنایا جانا ہے۔

جہاں بم ملا ہے اس کے ارد گرد دو کلو میٹر کے اندر کے علاقے کو خالی کرایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس کے ڈیٹونیٹر کو نارکارہ بنانے کی کوشش کریں گے

ایک اندازہ کے مطابق اس بم کو ناکارہ بنانے کے لیے شہریوں کے انخلا کی مہم کو حالیہ برسوں میں یونان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑی نقل مکانی قرار دیا جا رہے ہے۔ اگرچہ اس طرح کے دعووں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ گنجان آبادی والے علاقے میں یہ اپنی نوعیت کی ایک پیچیدہ مہم ہے اور بم کو غیر فعال کرنے کے عمل میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

اس مہم میں 1000 پولیس اہلکار اور 300 کے قریب رضا کار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

شہر میں سفر کے لیے تمام پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہیں گی۔

لوگوں سے کئی دن پہلے ہی اپنے گھر چھوڑ دینے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔

ایک مقامی شخص نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ امکان ہے کہ یہ بم برطانوی اور امریکی جنگی جہازوں کی جانب سے 17 ستمبر 1944 کو جرمنی کی ریلوے سہولیات پر گرائے جانے والے بموں میں سے ایک ہو۔

جرمنی کی فوج سنہ 1941 سے لے کر اکتوبر 1944 تک یونان پر قابض رہیں۔

اس سے پہلے جرمنی کے شہر کولون سے ملنے والے دوسری جنگِ عظیم کے ایک ٹن وزنی بم کو ناکارہ بنانے کے لیے 20 ہزار کے قریب افراد کو ان کےگھر چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔ جرمنی میں ہر سال سینکڑوں ان پھٹے بم دریافت کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر انھیں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا لیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں