شمالی کوریا نے 500 کلومیٹر دور مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے

missile تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد اس قسم کا پہلا تجربہ ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ اسے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 55 منٹ پر لانچ کیا گیا اور یہ مشرق کی سمت جاپانی سمندر کی طرف 500 کلومیٹر تک گیا۔

٭ شمالی کوریا کو میزائل تجربے میں دوسری بار ناکامی

٭ ’شمالی کوریا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ نہیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیر اعظم شنزو ایب کو امریکی حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ٹوکیو کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے جاپانی وزیر اعظم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والا تجربہ 'ناقابل برداشت' ہے۔

شنزو ایب نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکی جاپانی اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کے حق میں ہیں۔

جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا میزائل جاپان کی سمندری حدود میں داخل نہیں ہوا۔

گذشتہ سال پیونگ یانگ نے کئی جوہری تجربے کیے تھے۔ شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل میزائل اور جوہری تجربے اور ان کے جارحانہ بیانات خطے میں خطرے اور کشیدگی کا موجب ہیں۔

اتوار کو کیا جانے والا تجربہ شمالی پیونگان صوبے میں کےایئر بیس سے کیا گیا اور یہ علاقہ کوریائی خطے کے مغرب میں واقع ہے۔

امریکی دفاعی حکام نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن شمالی کوریا کے میزائل لانچ کی تصدیق کرسکتا ہے کہ 'ہمیں شمالی کوریا میں میزائل لانچ کیے جانے کے بارے میں پتہ چلا ہے۔'

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے بارے میں مطلع کر دیا گيا ہے۔

جنوبی کوریا کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 'شمالی کوریا کی جانب سے مستقل اشتعال انگیزی کم جونگ ان کے دورحکومت کی نامعقولیت کا مظہر ہے جو کہ پا‏گلوں کی طرح اپنے جوہری اور میزائل پروگرام پر فدا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شمالی کوریا نے گذشتہ سال کئی جوہری تجربے کیے اور اشتعال انگیز بیانات دیتا رہا ہے

جاپان میں کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیہودے سوگا نے کہا کہ میزائل جاپان کی عملداری میں آنے والے پانیوں تک نہیں پہنچا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ جاپان شمالی کوریا سے اس کے متعلق 'سخت احتجاج' درج کرائے گا۔

تاہم ابھی تک شمالی کوریا کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ-ان نے جنوری میں کہا تھا کہ ان کا ملک طویل فاصلے کے میزائل ٹیسٹ کرنے والا ہے جس میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہوگی۔

گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار کا استعمال کیا تو 'اس کا مؤثر اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔'

اس کے ساتھ انھوں نے جنوبی کوریا میں امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تعیناتی کی بھی تصدیق کی ہے۔

شمالی کوریا نے گزشتہ سال اپنا پانچواں جوہری تجربہ کیا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تھا وہ امریکہ پر ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو چکا ہے۔ تاہم سکیورٹی ماہرین اس دعوے سے متفق نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں