اقوام متحدہ کی ٹرمپ کو تنبیہ،’ فلسطین اسرائیل تنازعے کا کوئی دوسرا حل نہیں‘

اسرائیل امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل مقبوضہ غربِ اردن میں ہزاروں مکانوں پر مشتمل یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دے چکا ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کے دو ریاستی حل کو ترک کرنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کا کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔‘

یہ بات صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہی گئی ہے جس میں انھوں نے امریکہ کی 10 سالہ پالیسی کا یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ وہ امن کی طرف جانے والے راستے کا ساتھ دیں گے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں منقطع ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریز نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے ہم ممکن اقدامات اٹھائیں۔

انھوں نے کہا کہ اس تنازعے کا کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔

تاہم فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔

اس سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کے حل کے لیے اس دیرینہ امریکی پالیسی پر اصرار نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ’دو ریاستی حل‘ پر زور دیا جاتا تھا۔

بدھ کو اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ ایک بہترین امن معاہدہ کروائیں گے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے لیے فریقین کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریز نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے ہم ممکن اقدامات اٹھائیں

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سنہ 2014 کے بعد کوئی ٹھوس امن مذاکرات نہیں ہو سکے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے یہ بھی کہا کہ وہ یہودی آبادیوں کا پھیلاؤ کچھ عرصے کے لیے روک دیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل مقبوضہ غربِ اردن میں ہزاروں مکانوں پر مشتمل یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دے چکا ہے

بدھ کے روز پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے دو ریاستی حل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں دو ریاستی حل بھی دیکھ رہا ہوں، میں ایک ریاستی حل پر بھی غور کر رہا ہوں۔ مجھے وہ حل پسند ہے جو دونوں فریقوں کو پسند ہو۔‘

جب اسرائیلی وزیراعظم سے دو ریاستی حل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی توجہ لیبل کے بجائے مواد پر رکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امن کے لیے دو شرائط ہیں، پہلے کہ فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کریں اور دوسرا یہ کہ کسی بھی امن معاہدے میں دریائے اردن کے مغربی علاقے کی سکیورٹی پر اسرائیل کو مکمل کنٹرول حاصل ہو۔‘

اس پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا ذکر نہیں کیا جس کا تصور خطے میں امریکی پالیسی کا اہم ستون رہا ہے۔

اسرائیل کو امید ہے کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ سے ساتھ ان کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی۔ یاد رہے کہ اوباما انتظامیہ کے آٹھ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد موضوعات پر اختلافِ رائے تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے انتخابی وعدے کے بارے میں جب پوچھا گیا تو ان کہنا تھا کہ ’اس پر مجھے بہت خوشی ہوگی۔ ہم اس پر سنجیدگی، انتہائی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ’شدت پسند اسلام‘ کو روکا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے سسر وزیراعظم نیتن یاہو کی سیاسی مہم کے ایک اہم ڈونر رہے ہیں۔

اسی بارے میں