ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلسطین اور اسرائیل دونوں میں سیاسی طور پر وسطی نظریات کے لوگ اس فریم ورک کو تسلیم کرتے ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے 'دو ریاستی حل' کے ساتھ ساتھ 'یک ریاستی حل' پر بھی غور کے لیے تیار ہیں۔

مبصرین امریکی صدر کے اس بیان کو واشنگٹن کی عشروں پرانی پالیسی سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔

خود فلسطین کی جانب سے بھی اس پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور فلسطینیوں نے کہا ہے کہ شاید امریکہ ان کی ریاست کے قیام میں حمایت سے دستبردار ہو رہا ہے۔

آخر دو ریاستی حل کیا ہے؟

دو ریاستی حل مشرقِ وسطیٰ میں امن کا وہ ممکنہ فریم ورک ہے جس پر عرب لیگ، یورپی یونین، روس اور اوباما دور تک امریکہ سمیت دنیا بھر کے بیشتر رہنما اتفاق کرتے رہے ہیں۔

اس فریم ورک کے تحت 1967 میں عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی اسرائیلی حدود کے مطابق عربِ اردن، غزہ پٹی اور مشرقی یروشلم میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں میں اس فریم ورک کی تائید کی گئی ہے۔

فلسطین تنازعے کا حل، ایک ملک دو ریاستیں؟

تاہم کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس فریم ورک کو حقیقت نہیں بنایا جا سکا ہے۔ اوسلو معاہدوں میں دو ریاستی حل کو عملی جامعہ پہننانے کا عزم دہرایا گیا تھا تاہم 20 سال بعد بھی اس پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن کے گرد دیوار کی تعمیر اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے عمل کو جاری رکھے جانے کی وجہ سے فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

ادھر فلسطین میں حماس اور دیگر قدامت پسند گروہوں نے کبھی بھی دو ریاستی حل کی حمایت نہیں کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تمام مقبوضہ علاقے پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے۔

مگر فلسطین اور اسرائیل دونوں میں سیاسی طور پر وسطی نظریات کے لوگ اس فریم ورک کو تسلیم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو 1967 سرحدوں کے مطابق مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں

یاد رہے کہ 1988 میں پی ایل او کے سابق سربراہ یاسر عرفات نے یکطرفہ طور پر فلسطین ریاست کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد ممالک نے اس کو تسلیم کرلیا۔ ان ممالک میں عرب ممالک، کمیونسٹ اور غیر وابستہ ممالک اور لاطینی امریکہ کے چند ممالک شامل تھے۔

ستمبر 2011 میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر اور پی ایل او کے چیئرمین محمود عباس نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا مکمل ممبر بننے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی یہ کوشش دو ماہ بعد ناکام ہوئی جب سکیورٹی کونسل نے یہ کہا کہ اس حوالے سے کونسل 'متفقہ سفارشات' مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ محمود عباس نے پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غیر رکن مبصر ریاست کے درجے کے لیے درخواست دی۔

2012 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 2011 میں اقوام متحدہ کا پورا ممبر بننے کی فلسطین کی کوشش ناکام رہی تھی۔

فلسطینی عوام طویل عرصے سے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے خواہش مند ہیں۔ یہ ریاست مغربی کنارہ بشمول مشرقی یروشلم اور غزہ پر مشتمل ہو۔ سنہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی لیبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ تاہم دو دہائیوں کے بعد بھی اس معاملے کا مستقل حل نہیں نکل پایا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو 1967 سرحدوں کے مطابق مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1967 کے بعد بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ جیسے کہ پانچ لاکھ یہودی مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں دو سو بستیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ لیکن بین الاقوامی قوانین میں یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔

اسی بارے میں