بوسنیا سربیا کے خلاف پھر عدالت میں جائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2007 میں انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس نے سربیا کو براہِ راست نسل کشی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

بوسنیا کے ایک مسلمان رہنما کا کہنا ہے کہ بوسنیا اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل کرے گا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے جس میں سربیا کو 1990 کی دہائی میں نسل کشی کے الزام سے بری قرار دیا گیا تھا۔

باقر ایزت بیگووچ کا کہنا تھا کہ فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کرنے کے دس سال کی ڈینڈ لائن ختم ہونے سے قبل یہ قدم اٹھایا جائے گا۔ اس فیصلے پر اپیل کرنے کی ڈیڈلائن آئندہ 26 فروری کو ہے۔

سربیا حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایک نیا سیاسی بحران شروع ہو جائے گا۔

2007 میں انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس نے سربیا کو براہِ راست نسل کشی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

عدالت نے 1992-95 کے دوران بوسنیا کی جنگ میں نسل کشی کا صرف ایک واقعہ دریافت کیا تھا جس میں 8000 مسلمان مردوں اور لزکوں کو سربیا کی افواج نے 1995 میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس جنگ میں یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین مظالم دیکھے گئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سربیا نے قتل و غارت کو روکنے کی کوشش نہ کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

باقر ایزت بیگووچ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بوسنیا کے قانونی نمائندے جمع کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر کسی کو سچ جاننا ہے، ان کو بھی جو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی جج تجربہ کار اور غیر جانبدار، وہ ایک سچ رقم کریں گے۔‘

تاہم بونیا کے سرب حکام کا کہنا ہے کہ ایسا قدم اس وقت تک نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک اس پر بوسنیا کی سہہ پارٹی صدارت میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو جاتا۔

بوسنیا کی سہہ پارٹی صدارت میں ایک بوسنیائی مسلم، سرب، اور ایک کروئیٹ رکن ہوتا ہے۔

بوسنیا کے سرب رہنما ملوراد دودک نے بھی ملک میں سرب رہنمائوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی اپیل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں۔

ادھر سربیا کے کے وزیراعظم نے باقر ایزت بیگووچ کے اعلان کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بری خبر قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں