تھائی لینڈ: پولیس اور بودھ راہبوں کے درمیان مندر کے باہر تصادم

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے شمال میں واقع ایک معروف مندر دھمّاکیا کے باہر پولیس، بودھ راہبوں اور مندر کے پیروکاروں کے درمیان جھڑپیوں کی تصاویر۔

،تصویر کا کیپشن

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے شمال میں صوبہ پتھوم تھانی میں واقع ایک معروف مندر دھمّاکیا کے باہر بودھ راہبوں اور مندر کے پیروکاروں نے پولیس کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر میں جمع ہونے کی کوشش جس کی وجہ سے پولیس اور ان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

،تصویر کا کیپشن

مندر کے حوالے سے یہ تعطل جمعرات کو اس وقت شروع ہوا تھا جب پولیس نے اس مٹھ کے سابق سربراہ پھرا دھمانجیو کی تلاشی مہم کا آغاز کیا، وہ پولیس کو مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں پولیس کو مطلوب ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

مٹھ کے سابق سربراہ دھمانجیو کی حمایت میں ان کے ہزاروں حمایتی باہر نکل پڑے اور مندر کے پاس جمع ہوگئے۔ گذشتہ برس بھی پولیس نے جب تلاشی مہم شروع کی تھی تو اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا تھا

،تصویر کا کیپشن

پیر کے روز پولیس کے ساتھ ہونے والی دھینگا مشتی میں بعض بدھ راہب زخمی بھی ہوئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا لیکن کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

،تصویر کا کیپشن

مندر کے باہر اجتماعی پوجا کا اہتمام کیا گیا، اس مندر کے پیروکار اپنی سخت عقیدت کے لیے معروف ہیں اور اکثر اس گروپ کا موازنہ ’کرشماتی فرقوں‘ سے کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

ہزاروں کی تعداد میں تھائی لینڈ کی پولیس اور فوجیوں نے پیر کو مندر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ فوج نے مندر تک جانے اور وہاں تک پہنچنے والے سبھی راستوں کو سیل کر دیا تھا اور پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

پولیس کو تقریبا چار کلو میٹر مربع علاقے میں تلاشی لینی ہے جس کا کام چل رہا ہے لیکن حکام ابھی تک مٹھ کے سربراہ کا سراغ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

دھماکیا مندر تھائی لینڈ کے بڑے اور دولت مند مندروں میں سے ایک ہے۔ یہ مندر اڑتی طشتری نما سنہری گنبد کے لیے بھی بھی کامفی مشہور ہے۔