جنوبی سوڈان کے بعض علاقوں کو قحط سے متاثرہ قرار دیا گیا

جنوبی سوڈان
،تصویر کا کیپشن

جنوبی سوڈان کے یونیٹی صوبے میں کچھ علاقے قحط کی زد میں ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری امداد فراہم نہیں کی گئی تو نئے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں

گذشتہ چھ برسوں میں دنیا میں کہیں بھی قحط کے اعلان کا یہ پہلا واقعہ ہے اور جنوبی سوڈان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے مطابق صورتحال اتنی سنگین ہے کہ ایک لاکھ لوگوں کو بھوک کی وجہ سے موت کا سامنا ہے جبکہ مزید دس لاکھ قحط کے دہانے پر ہیں۔

ماہرین کےمطابق جنوبی سوڈان کی تباہ حال معیشت اور جاری خانہ جنگی کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ یمن، صومالیہ اور شمال مشرقی نائیجیریا میں بھی قحط کے خطرے کی وارننگ دی گئی ہے لیکن وہاں ابھی قحط کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

فی الحال جنوبی سوڈان کے یونیٹی صوبے میں کچھ علاقے قحط کی زد میں ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری امداد فراہم نہیں کی گئی تو نئے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

جنوبی سوڈان پہلے 1998 میں بھی قحط کی زد میں آچکا ہے، اس وقت ملک میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑائی ہو رہی تھی

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (خوراک کا پروگرام) اور یونیسیف سمیت امدادی ایجنسیوں نے باور کروایا ہے کہ ملک میں تقریباً پچاس لاکھ لوگوں کو غذائی اشیا کی فوری ضرورت ہے، یعنی جنوبی سوڈان کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی فوری طور پر مداد کی منتظر ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق لمبے عرصے تک خشک سالی کی وجہ سے بعض علاقوں میں خوراک کی شدید قلت ہوسکتی ہے لیکن قحط کا اعلان انتہائی سنگین حالات میں ہی کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر متاثرہ علاقے میں کم سے کم بیس فیصد گھروں میں خوراک کی شدید قلت ہو، تیس فیصد سے زیادہ لوگ ’غذائیت کی کمی‘ کا شکار ہوں یعنی مناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے انتہائی کمزور ہوگئے ہوں اور دس ہزار کی آبادی میں اوسطاً ہر روز دو سے زیادہ لوگوں کی موت ہو رہی ہو۔

،تصویر کا کیپشن

جنوبی سوڈان

قحط کا اعلان کرنے سے اقوام متحدہ یا دوسرے ممالک کے لیے یہ لازم نہیں ہوجاتا کہ وہ مدد کریں گے لیکن بحران پر عالمی برادری کی توجہ ضرور مرکوز ہو جاتی ہے۔

جنوبی سوڈان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی سربراہ جوئس لوما نے کہا کہ یہ ملک میں تین سال سے جاری خانہ جنگی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جنوبی سوڈان پہلے 1998 میں بھی قحط کی زد میں آچکا ہے۔ اس وقت ملک میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑائی ہو رہی تھی۔

گذشتہ ہفتے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا تھا کہ خشک سالی اور خانہ جنگی کی وجہ سے دنیا کے چار مختلف حصے قحط کی زد میں آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری نے پہلے سے کہیں زیادہ امداد فراہم کی ہے لیکن پھر بھی یہ امداد سب ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔