تنزانیہ میں حکومت کی ہم جنس پرستوں کے نام شائع کرنے کی دھمکی

ہم جنسی
،تصویر کا کیپشن

تنزانیہ میں ہم جنس پرستی غیرقانونی ہے اور اس پر تیس برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے

تنزانیہ کے نائب وزیر صحت ڈاکٹر حامیسی کگوانگالا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہم جنس پرستوں کے نام شائع کرنے کی ممکنہ تجویز کا دفاع کیا ہے۔

ادھر سوشل میڈیا میں اس معاملے پر زبردست بحث جاری ہے۔

مشرقی افریقی ملک تنزانیہ میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے اور اس پر تیس برس قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ نائب وزیرصحت نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ آن لائن ہم جنس پرستی پر مبنی سرگرمیوں کی تشہیر کریں گے انھیں بھی سزا ہوسکے گی۔

ادھر ٹوئٹر پر ان پر ہم جنس پرستوں سے نفرت اور آزادی اظہار کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

نائب وزیر صحت ڈاکٹر حامیسی کگوانگالا کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا کوئی سائنسی وجود نہیں یہ ایک سماجی تخلیق ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’کیا آپ نے کبھی بکریوں اور پرندوں میں ہم جنس پرستی دیکھی ہے؟ ہم جنس پرستی کی کوئی حیاتیاتی بنیاد نہیں ہے۔ یہ غیر فطری ہے۔‘

نائب وزیر صحت، جو کہ خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا تعلق شہری طرز زندگی سے ہے اور تنزانیہ کا وہ چھوٹا سا شہر جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں، وہاں کوئی ہم جنس پرست نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

نائب وزیر صحت کے مطابق ہم جنس پرستی کا کوئی سائنسی وجود نہیں ہے اور یہ ایک سماجی تخلیق ہے

ٹوئٹر پر ہم جنس پرستی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے مزید نفرت، تشدد اور مار پیٹ میں اضافہ ہوگا اور یہ کہ سیاست نے حکومت کو سائنس کی بنیادی حقیقت بھلانے پر مجبور کیا ہے۔ ان کے مطابق ہم جنس پرستی کا تعلق بائیو جنیٹکس سے ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں ڈاکٹر حامیسی کگوانگالا نے غیرقانونی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے ہم جنس پرستی ’پھیلانے‘ کے الزام میں تین افراد کو پولیس کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان افراد پر فرد جرم عائد کی گئی یا نہیں۔

گذشتہ ہفتے تنزانیہ کی وزارت صحت نے چالیس کلینکز میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے الزام مین ایچ آئیو وی ایڈز کے ٹیکے لگوانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تنزانیہ میں ہم جنس پرستی کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔