امریکہ سے بے دخلی پر میکسیکو کے باشندے کی خودکشی

میکسیکو
،تصویر کا کیپشن

میکسیکو کے باشندے نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے چند گز کے فاصلے پر واقعے پل سے چھلانگ لگائی

میکسیکو کے باشندے نے بظاہر امریکہ سے بے دخل کیے جانے کے بعد خود کشی کر لی ہے۔

45 سالہ گواڈیلیپ اولیواس ویلینسیا نے تیسری بار امریکہ سے بے دخل کیے جانے پر سرحد پر موجود ایک پل سے چھلانگ لگا دی۔

انھیں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ ان کے پاس سے ایک پلاسٹک کے بیگ میں ان کی استمعال کی چیزیں بھی ملیں۔

ان کی خودکشی کا یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی سے متعلق نئے اصولوں کے اجرا کے بعد پیش آیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خوش کشی کرنے والے اولیواس چلا رہے تھے کہ وہ واپس میکسیکو نہیں جانا چاہتے اور وہ کافی ذہنی دباٰؤ کا شکار لگ رہے تھے۔

انھوں نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے چند گز کے فاصلے پر واقعے پل سے چھلانگ لگائی۔

،تصویر کا کیپشن

امریکہ میں ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی پناہ گزین رہتے ہیں جن میں سے پیشتر میکسیکو کے باشندے ہیں

ان کی موت گرنے کے بعد سر پر لگنے والے چوٹ اور پھر دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

ان کا تعلق مکیسکیو کے سب سے زیادہ شکار علاقے سے تھا اور میکسکو کے متعدد لوگوں کے ملک چھوڑنے کا سبب یہیں تشدد اور منشیات کا کاروبار کرنے والوں کی لڑائیاں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ایک کروڑ دس لاکھ غیر قانونی پناہ گزین رہتے ہیں جن میں سے پیشتر میکسیکو کے باشندے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں 14 برس کی عمر سے امریکہ مںی مقیم ایک خاتون کو بھی احتجاج کہ باوجود ملک سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

بدھ کو امریکی وزیرِ خادجہ میکسیکو جائیں گے اور سرحی تحفظ ، قانون کی بالادستی اور تجارت کے حوالے سے وہںا کے صدر سے بات چیت کریں گے۔