لیبیا کے قریب درجنوں تارکینِ وطن ڈوب کر ہلاک

لیبیا

،تصویر کا ذریعہIFRC MENA

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ برس پانچ ہزار افراد سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہوئے تھے

لیبیا کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے کے ایک واقعے کے بعد 87 افریقی تارکینِ وطن کی لاشیں ملی ہیں۔

تارکینِ وطن کی لاشیں لیبیا کے شہر زاویہ کے قریب ساحلِ سمندر سے ملی ہیں اور ان افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا کہ وہ بحیرۂ روم کو عبور کر کے اٹلی جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصہ میں لیبیا کے قریب تارکینِ وطن کی کشتیوں کو پیش آنے والے حادثوں کے باعث ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

ساحلِ سمندر کے قریب سے ربر کی ایک کشتی بھی ملی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں کیونکہ عموماً اس طرح کی کشتیوں میں سوار افراد کی تعداد 120 تک ہوتی ہے۔

مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

فلاحی ادارے حلالِ احمر کے ترجمان کے مطابق مرنے والے افراد کی تدفین کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں اگرچہ یورپ میں پناہ کی تلاش میں جانے والوں کی تعداد میں کمی تو دیکھنے کو مل رہی ہے تاہم اب بھی سمندر کے پرخطر سفر کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

رواں سال اس سے قبل بھی تارکینِ وطن کی کشتیوں کو بحیرہ روم میں حادثے پیش آچکے ہیں ۔ گزشتہ ماہ بحیرۂ روم میں سفر کرنے والے 550 تارکین وطن کو اٹلی کے کوسٹ گارڈز نے زندہ بچایا تھا۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس پانچ ہزار افراد سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہوئے تھے۔