عراقی افواج نے موصل کے ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا

عراق موصل

عراق میں حکومتی افواج نے موصل کے مغربی علاقے کو خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے آزاد کروانے کے لیے شہر کے ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

موصل میں عراقی افواج کی کارروائی چار گھنٹوں تک جاری رہی۔

دولت اسلامیہ نے عراقی افواج سے زمینی جنگ ہارنے کے بعد موصل کے اندر سے ہوائی اڈے پر مارٹر کے گولے داغے۔

عراق کے ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسند جھڑوں کے دوران ہوائی اڈے کے قریب ایک فوجی اڈے میں داخل ہو گئے۔

دولت اسلامیہ نے موصل کے ہوائی اڈے کے رن وے کو تو پہلے ہی تباہ کر دیا تھا تاہم بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار کوئنٹن سومرویل کا کہنا ہے کہ لیکن اتنے بڑے علاقے پر قبضہ حاصل کرنے سے عراقی فوج کو موصل کے جنوبی سڑک کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

زمینی حملے سے قبل امریکہ اور اس کی اتحادی فوج نے اس علاقے میں فضائی کارروائی کی اور زمینی حملے کے لیے راستہ ہموار کیا۔

موصل کے ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کے دستوں کے ساتھ امریکی فوجی بھی شامل ہے جو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ عراقی فوج کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

ایک فوجی ترجمان نے عراقیہ ٹی وی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز دولتِ اسلامیہ کو تتر بتر کرنے کے لیے ایئر پورٹ کے ساتھ ساتھ غزلانی فوجی کیمپ پر بھی حملے کر رہی ہیں۔

اتوار کو عراقی فوجیوں نے مغربی موصل کا تقریباً مکمل گھیراؤ کر لیا تھا اور امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سال کی ابتدا میں سرکاری افواج نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانے موصل کا مشرقی حصہ آزاد کروا لیا تھا۔

خیال رہے کہ موصل دولت اسلامیہ کا آخری اہم گڑھ ہے جبکہ شہر سے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کی مہم گذشتہ سال اکتوبر سے جاری ہے۔