پیرس کی میئر کا ٹرمپ کو طنزیہ جواب

فرانس

فرانس کے شہر پیرس کی میئر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرس کے بارے میں منفی بیان کا جواب والٹ ڈزنی کے کرداروں کی مدد سے دیا ہے۔

این ہدالگو نے مکی اور منی ماؤس کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے اور ساتھ لکھا ہے ’شہر کا متحرک طرز اور (مختلف) لوگوں کے لیے کھلے دل کے جذبے کو مناتے ہوئے۔‘

ادھر فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تنقید کبھی اچھی نہیں ہوتی۔

حال ہی میں کنزرویٹو پولیٹکل ایکشن کانگریس کی تقریب کی سالانہ تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا ایک دوست پیرس جانا پسند کرتا تھا لیکن اب اس نے وہاں جانا چھوڑ دیا ہے۔ 'پیرس اب پیرس نہیں رہا۔'

اس تقریر میں انھوں نے دہشتگردی کے خلاف یورپی کوششوں پر بھی نکتہ چینی کی۔

2015 کے آغاز سے اب تک فرانس میں مختلف دہشگردی کے واقعات میں 230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور فرانس ایک سال سے زیادہ سے ہنگامی صورتحال میں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

پیرس اب پیرس نہیں رہا: صدر ٹرمپ

این ہدالگو نے یہ ٹویٹ شہر میں سیاحت کے فروغ کی ایک مہم کے آغاز کے موقعے پر کی ہے۔ یہ ڈزنی لینڈ پیرس کی 25 ویں سالگرہ کا موقعہ بھی ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ امریکہ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق شہر میں امریکہ سے آنے والوں کی بکنگ 2017 میں 30 فیصد بڑھ گئی ہے۔

ادھر صدر اولاند نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں کہا کہ ایک اتحادی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک دوست ملک کی طرف ہلکی سی بھی بے اعتمادی ظاہر کرنا کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے فرانس میں سخت تر اسلحے کے قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر کوئی ہتھیار نہیں گھوم رہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں گن کنٹرول ایک بڑا مسئلہ ہے۔