اسرائیلی طالبات کو قتل کرنے والا اردن کا سپاہی رہا

احمد دقامسیح

اردن میں حکام کا کہنا ہے کہ سات اسرائیلی لڑکیوں کو قتل کرنے کے جرم میں 20 سال سزا کاٹنے کے بعد اردنی سپاہی کو رہا کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لڑکیوں کے قتل کا یہ واقعہ سنہ 1997 میں پیش آیا تھا۔

سپاہی احمد دقمسیح اپنے گھر پہنچ چکے ہیں جو کہ شمالی اردن کے قریب ایک گاؤں میں واقع ہے۔

انھوں نے سکول کی طالبات پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب وہ اردن کی سرحد کے قریب ایک جزیرے کے دورے پر گئی تھیں۔

اس وقت ملک کی فوجی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ احمد دقمسیح کا ذہنی توازن خراب ہے۔ انھیں عمر قید کی سزا ملی تھی۔

اردن میں عمر قید کی سزا 25 برس ہوتی ہے تاہم کچھ قانون دانوں نے احمد کی جلد رہائی کے لیے کوشش کی تھی۔

اب تک اسرائیلی حکام کی جانب سے اس پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

طالبات کی ہلاکت کے بعد اس وقت اردن کے بادشاہ حسین نے ذاتی طور پر متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگی تھی اور ان سے ملاقات کی تھی۔

اردن نے متاثرین کو طالبات کے قتل کے بدلے ہرجانہ بھی دیا تھا۔

بہت سے لوگوں نے جو اسرائیل اور اردن کے درمیان سنہ 1994 کے معاہدے کے مخالف تھے احمد دقمسیح کو اس اقدام کی بنا پر ہیرو قرار دیا تھا۔