انڈین بحری جہاز آزاد مگر عملہ صومالی قذاقوں کے قبضے میں

صومالہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ چند سالوں میں صومالیہ کی آبی حدود میں قذاقوں کی کاروایئوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

صومالیہ کی سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں اغوا کیے جانے والے انڈیا کے مال بردار بحری جہاز کو چھڑا لیا ہے تاہم اغوا کار عملے کے 11 میں سے نو اراکین کو ساتھ لے گئے ہیں۔

ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں ہوبیو شہر کے قریب رکھا گیا ہے۔

الکوثر نامی یہ بحری جہاز ان تین بحری جہازوں میں سے ایک ہے جسے گذشتہ پانچ سالوں کی خاموشی کے بعد قذاقوں نے اغوا کیا۔

ادھر اتوار کو پاکستان، انڈیا اور چینی بحریہ سے تعلق رکھنے والے عملے کے ارکان نے تووالو میں اندراج اس بحری جہاز کے عملے کو رہا کروایا جو قذاقوں کے قبضے میں تھے۔

گلموڈگ ریاست کے نائب صدر محمد حاشی عربی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عملے کے جن دو ارکان کو بچایا گیا ہے، انھیں قذاق اس وقت ایک گاڑی میں چھوڑ کر چلے گئے جب ان کا پیچھا کیا گیا۔

روئٹرز کی جانب سے قذاقوں سے رابطہ کرنے پر انھوں نے بتایا ہے کہ وہ اس وقت تک عملے کے بقیہ ارکان کو اپنے پاس رکھیں گے جب انڈیا کی جیلوں میں قید ان کے سینکڑوں ساتھیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے قذاقوں نے انڈیا کا ایک مال بردار بحری جہاز نیم خود مختار علاقے پُنٹ لینڈ کے ساحل کے نزدیک سے اغوا کر لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق جہاز صومالیہ کی بندر گاہ کی جانب جا رہا تھا۔

دو ہفتے قبل بھی موغادیشو جانے والا ایک تیل بردار جہاز قذاقوں نے پکڑ لیا تھا لیکن بعد میں اس کو بغیر کسی معاوضے کے چھوڑ دیا گیا۔ 2012 کے بعد صومالیہ کے ساحل کے پاس سے قذاقوں کی یہ پہلی کارروائی تھی۔

جب سے صومالیہ کی آبی حدود میں بین الاقوامی فوجی بحری جہازوں نے نقل و حرکت شروع کی اس کے بعد سے جہازوں کے اغوا برائے تاوان کی کارروائیاں گذشتہ کچھ سالوں میں کافی کم ہوئی ہیں۔

2011 کے دوران 237 ایسے واقعات پیش آئے تھے اور ان کی وجہ سے مجموعی طور پر آٹھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔