جرمنی بس دھماکہ: مشتبہ ’اسلامی شدت پسند‘ گرفتار

جرمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جرمنی کی پولیس نے منگل کو چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں حصہ لینے کے لیے جانے والی بورسيا ڈورٹمنڈ فٹ بال ٹیم کی بس پر حملہ کرنے والے مشتبہ 'اسلامی شدت پسند' کو گرفتار کر لیا ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بس میں ہونے والے دھماکے میں تین میں سے ایک دھماکہ خیز ڈیوائیسز میں میٹل سٹرپس استعمال کیے گئے۔

پولیس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں جائے وقوعہ سے دو خط ملے ہیں جس میں منگل کو کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

جرمن پراسیکیوٹرز بس میں ہونے والے ان دھماکوں کو دہشت گرد حملہ قرار دے رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی اس حملے کا مقصد واضح نہیں ہے۔

ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بدھ کو ایک بیان میں اس حملے کو 'ہولناک جرم' قرار دیا اور دونوں ٹیموں کے حمایتیوں کے اکھٹے آنے کی تعریف کی۔

جرمنی کی وفاقی پراسیکیوٹر خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ اسلامی شدت پسند ہماری تفتیش کا بنیادی نقطہ بن گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا 'ان دونوں کے اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی جس کے بعد ان میں سے ایک کو حراست میں لے لیا گیا۔'

انھوں نے کہا کہ دھماکوں کی جگہ کے قریب سے اس خط کی مزید تین کاپیاں ملی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے برلن کی مارکیٹ میں گذشتہ برس ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہSTR

اس سے پہلے جرمن اخبار نے کہا تھا کہ پولیس کو جائے وقوع سے ایک خط ملا جس میں برلن کی مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے اور شام میں جاری فوجی آپریشنز کے بارے میں ذکر ہے۔

جرمنی کے اخبار کا کہنا تھا کہ خط میں 'اللہ کے نام سے' کا فقرہ ہے اور اس میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے جرمنی کے ٹورناڈو طیاروں کا ذکر بھی ہے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ حملے کے ذمہ دار افراد تفتیش کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ اخبار کے مطابق ماہرین اس خط کا جائزہ لے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

جرمنی کی خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق آن لائن پر ایک دوسرا خط بھی گردش کر رہا ہے جس میں ایک اینٹی فسطائی گروپ کی جانب سے اس حملےکی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے ک بورسيا ڈورٹمنڈ فٹ بال ٹیم مناکو کے خلاف چیمپیئنز لیگ کے کوارٹر فائنل میچ میں حصہ لینے کے لیے جا رہی تھی جب 'ان کی بس میں دھماکہ ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

جائے وقوع سے حاصل ہونے والی تصاویر میں بس کی کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشوں اور پھٹے ہوئے ٹائروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس واقعے میں زخمی ہونے والے کھلاڑی مارک بارٹرا کا ہسپتال میں آپریشن کیا گیا۔

حکام کے مطابق اس حادثے میں دیگر کھلاڑی محفوظ رہے تاہم اس بس کا ایک نگہبان موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔