سیلی اور اکرم کی شادی مصر میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال

سیلی
،تصویر کا کیپشن

سیلی اور اکرم اپنے والدین کو منانے میں کامیاب رہے

گذشتہ ہفتے شمالی مِصر کے گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں نے ملک کی اقلیتی عیسائی برادری کو درپیش خطرات کو اجاگر کیا۔ لیکن مصر کے دریائے نیل کے کنارے بسنے والی قدیم نوبین برادری مسلم اور عیسائی بھائی چارے کی ایک مثال ہے۔ نامہ نگار نکولہ کیلی نے جنوبی شہر آسوان میں ایک ایسی شادی میں شرکت کی جہاں دولہا مسلمان اور دلہن عیسائی تھی۔

اکرم نامی دولہے کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں اپنی ہی برادری کی لڑکی سے شادی کروں لیکن میں اس (سیلی) سے دور نہیں رہ سکا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سیلی اور اکرم کی پہلی ملاقات مصر میں واقع دریا ئے نیل پر ہوئی تھی

دریائے نیل کے مغربی ساحل پر واقع گاؤں شادید میں آج اکرم کی شادی کا دن ہے اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یہ کوئی روایتی شادی نہیں ہوگی، اکرم اپنے مذہب کے مطابق رسمیں نبھائیں گے جبکہ ان کی ہونے والی دلہن سیلی اپنے گھر پر عیسائی مذہب کے مطابق رسمیں ادا کریں گی۔

اکرم نے بتایا کہ گاؤں میں یہ پہلی شادی ہے جس میں مختلف مذاہب کے دولہا دلہن ہیں اور خاصں طور پر ان کے والدین کے لیے یہ بہت مشکل تھا۔

،تصویر کا کیپشن

اکرم نے رواج کے مطابق گھر گھر جا کر لوگوں کو دعوت دی

سات سال تک دونوں کے والدین نے انھیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

برادری کے لوگوں، مذہبی رہنماؤں اور دوست و احباب نے انھیں ایک دوسرے سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن اکرم اور سیلی کسی نہ کسی طرح ملنے کا موقع تلاش کر ہی لیتے تھے۔

نیوبین برادری میں سیلی اور اکرم جیسے جوڑوں کے لیے ایک دوسرے کے مذہب میں شادی کرنا ’حرام‘ یا ممنوع تو نہیں لیکن سماجی برائی سمجھی جاتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

سیلی اور اکرم نے اپنے اپنے انداز میں شادی کی رسمیں نبھائیں

اکرم اور سیلی کی پہلی ملاقات دریائے نیل کے کنارے ہوئی جہاں اکثر نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں اور آئس کریم کھاتے ہیں۔

یہ علاقہ ان کے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔

اکرم کہتے ہیں کہ انھیں سیلی سے مِلنا، ان سے باتیں کرنا، اچھا لگتا تھا اور وہ ہمیشہ ان سے ملاقات کا انتظار کرتے تھے۔

مصر کے کسی اور علاقے میں اس طرح کی شادی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

2011 کے انقلاب کے بعد سے مصر میں عیسائیوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حال ہی میں ہونے والوں حملوں میں 45 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

لیکن اکرم ان سب باتوں سے قطعی پریشان نہیں ہیں۔ انھوں نے نیوبیا رواج کے مطابق گھر گھر جا کر لوگوں کو شادی میں مدعو کیا۔

مسجد کی جانب جاتے ہوئے اکرم نے ایک تباہ شدہ گرجا گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ باہر کے لوگوں نے یہاں کچھ مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے مل کر ان باہر کے لوگوں کو مار بھگایا۔

،تصویر کا کیپشن

سیلی نے دوسری دلہنوں کی طرح مہندی بھی لگائی

مسجد میں امام نے ڈھیر ساری کتابیں دکھائیں جن میں عیسائی مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی کتابیں بھی شامل تھیں۔

امام کا کہنا تھا کہ گذشتہ 800 سالوں سے یہاں عیسائی مذہب مجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مذہب میں شادی میں کوئی حرج نہیں، ہمیں مل جل کر رہنا چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی برادری میں طلاق اور ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں عیسائی مذہب کا مثبت اثر رہا ہے۔

شادید گاؤں کی دوسری جانب سیلی بھی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

سیلی کا کہنا ہے کہ رسم و رواج دوسروں کے لیے ہیں ان کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ سیلی کو بھی اس شادی کے لیے اپنے گھر والوں کے ساتھ خاصی لمبی بحث سے گزرنا پڑا تھا۔

سیلی نے بتایا کہ ان کے والد بھی اس شادی کے لیے تیار نہیں تھے لیکن امام نے انھیں بھی منا لیا۔