شام میں حملے میں ہلاک ہونے والے ’68 بچے تھے‘

شام

،تصویر کا ذریعہAFP

شام میں حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں سے پناہ گزینوں کو لے جانے والی بسوں کے قافلے پر بم حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 126 ہوگئی ہے اور کارکنان کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم 68 بچے بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق دھماکے میں بچوں سمیت 98 پناہ گزینوں کے علاوہ امدادی کاروائیاں کرنے والے اور چند باغی فوجی بھی ہلاک ہو گئے۔

یہ واقعہ شام میں حلب کے نزدیک باغیوں کے زیر انتظام علاقے راشدین میں اتوار کے روز پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً ساڑھے تین بجے مقامی وقت پر ایک چیک پوائنٹ پر یہ بم دھماکہ ہوا۔ بی بی سی کی نمائندہ لینا سنجاب نے بتایا کہ کھانے سے بھری ایک وین پناہ گزینوں کی بسوں تک پہنچی اور لوگوں میں کھانے تقسیم کرنے لگی جس سے کئی بچے بھی وین کے قریب پہنچے لیکن اس کے کچھ دیر بعد ہی دھماکہ ہو گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ حکومتی اجازت کے بغیر یہ گاڑی کیسے وہاں تک پہنچ گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بم دھماکے میں تباہ ہونے والی پناہ گزینوں کی ایک بس

ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ بم دھماکے میں باغی جنگجو ملوث ہیں۔

دونوں فریقوں نے 'چار علاقوں' کے بارے میں معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے مدد کی جانی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق 30000 افراد باغیوں اور حکومت کے دو دو علاقوں سے نکالے جانے تھے۔

حکومت کا کنٹرول فوح اور کیفرایا نامی علاقوں میں ہے جبکہ باغیوں کی زیر انتظام مدایا اور زبادانی کے علاقے ہیں۔ کل ہونے والا بم دھماکہ کیفرایا کے علاقے کے قریب پیش آیا۔

فوح اور کیفرایا میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے اور ان علاقوں کو باغیوں اور القاعدہ سے منسلک سنی مسلم جنگجوؤں نے مارچ 2015 سے گھیرے میں لیے ہوا ہے۔

مدایا اور زبادانی کے علاقے سنی اکثریت کے ہیں اور جون 2015 سے انھیں شام کی فوج نے گھیرا ہوا ہے۔