امریکہ بھر میں صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے ظاہر کرنے کے لیے مظاہرے

امریکہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے اس لیے دیکھنا چاہتے ہیں کے آیا ان کے روس کے ساتھ کوئئ تعلقات تو نہیں ہیں

امریکہ بھر میں 150 سے زائد مقامات پر احتجاج جاری ہیں جہاں مظاہرین صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کےٹیکس گوشواروں کو شائع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روایتی طور پرامریکی صدارت کے امیدوار اپنی انتخابی مہم میں اپنے گوشوارے ظاہر کر دیتے ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری پارٹنر کون کون ہیں اور کہیں ان میں مفادات کا تصادم تو نہیں ہے۔

صدر کے لیے ٹیکس گوشواروں کو ظاہر کرنا قانونی مجبوری نہیں ہے لیکن 2005 میں ظاہر کیے گئے ٹیکس گوشوارے پچھلے مہینے میڈیا میں سامنے آئے تھے جس کے بعد سے ان پر مسلسل دباؤ ہے۔

برکلے کیلیفورنیا میں ہونے والے ایسے ایک مظاہرے میں کم از کم 21 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مظاہرے میں شریک چک واش کا کہنا ہے کہ 'میرے خیال میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے صدر ٹرمپ نے کہاں کہاں سرمایہ کاری کی ہے، اور کہا وہ چندہ دیتے ہیں۔'

ان مظاہروں کا خیال سب سے پہلے قانون کی پروفیسر جینیفر ٹاؤب کو آیا تھا جب صدر ٹرمپ کی مشیر کیلی این کانوے نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے گوشوارے اس لیے جاری نہیں کریں گے کیونکہ لوگوں کو اس کی پروا نہیں ہے۔

اس کے جواب میں جینیفر ٹاؤب نے جنوری میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے ملک بھر میں مظاہرے کرنے کی تجویز دی تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ لوگوں کو پروا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

پروفیسر جینیفر ٹاؤب کی جنوری میں کی جانے والی ٹویٹ

واشنگٹن ڈی سی کے مظاہرے سے ٹاؤب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میں بس اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھی اور میں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ آج میں یہاں موجود ہوں گی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ان مظاہروں کا مقصد صرف صدر ٹرمپ کے ٹیکس دیکھنا نہیں ہے۔

'ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ معلوم ہو سکے کہ ٹیکس کا نظام انصاف اور شفافیت پر مبنی ہو۔ اس سے یہ معلوم ہو سکے کہ تمام افراد اپنے ٹیکس دے رہے ہوں اور ہمارے ٹیکس سے حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔'

جینیفر ٹاؤب کے مطابق حکومت کو چاہیے کے وہ جنگوں پر پیسے کم خرچ کرے اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے ٹی وی پروگرام اور لوگوں کو کھانے کے فراہم کرنے کے میلز آن وہیلز جیسے پروگرام پر زیادہ رقم صرف کرے۔