برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان

ٹریزا مے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

برطانوی وزیر اعظم نے دوسری سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بریگزٹ کے معاملے پر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم کے 2020 کی مقررہ مدت سے پہلے انتخابات کرانے کے فیصلے کی پارلیمنٹ سے توثیق ضروری ہے اور برطانوی دارالعوام بدھ کے روز قبل از وقت انتخابات پر ووٹنگ کرے گا۔

حزب مخالف کی جماعت کے لیڈر جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی چاہتی ہے کہ یہ انتخابات ہوں تاکہ ایسی حکومت آ سکے جو ’اکثریت کو فوقیت دے۔‘

اگر پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے قبل از وقت انتخابات کرانے کے فیصلے کی توثیق کر دی تو انتخابات 8 جون کو کرائے جائیں گے۔

قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ کی یورپ یونین سے علیحدگی کے ریفرینڈم کے بعد ملک کو استحکام، اطمینان اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔

فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملک تو متحد ہو رہا ہے لیکن ویسٹ منسٹر نہیں۔'

اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ملک میں آنے والے کئی برسوں میں استحکام اور اطمینان کے لیے نئے انتخابات انتہائی ضروری ہیں۔‘

وزیر اعظم نے دوسری سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بریگزٹ کے معاملے پر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں جو برطانیہ کی یورپی یونین سے کامیابی سے علیحدگی حاصل کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'جب میں وزیر اعظم بنی تو میں نے کہا تھا کہ 2020 تک کوئی انتخابات نہیں ہونے چاہییں لیکن اب میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ملک میں برسوں تک اطمینان اور استحکام کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے قبل از وقت انتخابات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے

لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے وزیراعظم مے کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

کوربن نے کہا کہ لیبر پارٹی انتخابات کا انعقاد چاہتی تھی۔ انھوں نے کہا یہ موقع ہے کہ ایک ایسی حکومت حاصل کی جائے جو اکثریت کو اولیت دیتی ہو۔

ادھر یورپی کونسل نے کہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے مذاکرات کا عمل اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گا۔

کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ برطانیہ میں انتخاب سے مذاکرات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یورپی یونین کے دیگر 27 ممالک اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین 22 مئی سے بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہو گی۔

بریگزٹ مذاکرات کار مائیکل بارنیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں امید ہے کہ انتخابات کے نتائج برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے مذاکرات کے عمل کو بہتر بنائیں گے۔

مائیکل بارنیئر کے ترجمان نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یورپی یونین کو امید ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں برطانیہ میں ایک مضبوط رہنما ابھرے گا جو عوام کی حمایت سے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کر سکے گا۔