امریکہ کا شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور

جنوبی کوریا

،تصویر کا ذریعہAFP

امریکہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے اور اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے سمیت سفارتی اقدامات اٹھانے پر غور کر رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی کا اعلان 100 امریکی سینیٹرز کے ساتھ ہونے والی خاص بریفنگ کے بعد کیا گیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن، وزیرِ دفاع جیمز میٹس اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈان کوٹس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ جزیرہ نما کوریا کا استحکام اور پر امن جوہری تخفیف چاہتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم اپنے ہدف کی جانب مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم ہم اپنا اور ہمارے اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہEPA

بیان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ شمالی کوریا پر اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے جس میں اس پر اقتصادی پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ سفارتی اقدامات بھی کیے جائیں۔

اس سے پہلے بحرالکاہل میں امریکہ کے سب سے اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا میں جدید دفاعی میزائل نظام کی تنصیب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو 'اگر اپنے گھٹنوں پر نہیں تو ان کے ہوش ٹھکانے لے ہی آئے گی۔'

امریکی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے امریکی کانگریس کو بتایا کہ امریکہ شمالی کوریا کے میزائل خطرے سے نمٹنے کے لیے 'بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ' تیار رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

ایڈمرل ہیرس نے امریکی کانگریس میں کہا کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا کے پاس جب بھی اس قدر فوجی صلاحیت ہوئی وہ امریکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

خیال رہے کہ خطے میں شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور امریکہ کے ساتھ بیان بازی کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں جب کہ اس بارے میں بھی خدشات پائے جا رہے ہیں کہ شمالی کوریا مزید میزائل یا جوہری تجربات کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔

اسی دوران چین نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں تیار کیا جانے والا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز پانی میں اتار دیا ہے۔