ترکی میں ’گولن سے روابط‘ رکھنے والے نو ہزار پولیس اہلکار برطرف

ترکی

ترکی میں پولیس نے امریکہ میں مقیم حکومت مخالف رہنما فتح اللہ گولن کی تحریک سے روابط کے الزام میں اپنے نو ہزار سے زائد اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدام قومی سلامتی کے تناظر میں کیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن پر گذشتہ برس ناکام فوجی بغاوت کروانے کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

اس سے قبل حکام نے تازہ ترین آپریشن میں فتح اللہ گولن کے ایک ہزار سے زائد مبینہ حامیوں کو گرفتار کیا تھا۔

یہ ترکی میں حالیہ مہینوں کے دوران کی جانے والی بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھی۔

ترکی کے وزیرِ داخلہ سلیمان سوئلو کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا نشانہ فتح اللہ گولن کا نیٹ ورک تھا جو 'خفیہ امام بن کر ہماری پولیس کو نشانہ بنا رہے تھے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے مزید خفیہ امام حراست میں لیے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف ابھی آپریشن جاری ہے۔'

ترکی میں گذشتہ برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 40,000 افراد کو گرفتار جب کہ 1,20,000 کو برطرف یا معطل کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے ہزاروں ملازمین کو بھی حکومت مخالف قرار دیتے ہوئے برخاست کیا گیا ہے جبکہ حزبِ اختلاف کے حامی میڈیا کو بھی بندشوں کا سامنا ہے۔

ان افراد میں فوجی، پولیس، اساتذہ اور سرکاری ملازمین شامل ہیں جن پر شدت پسند گروہوں کے ساتھ روابط کا الزام ہے۔

یہ گرفتاریاں ترک صدر کے متنازع ریفرینڈم میں کامیابی کے بعد ملک میں ان کے مخالفین پر پہلا بڑا کریک ڈاؤن ہے اور اس کا ہدف ملک کی پولیس فورس میں فتح اللہ گولن کے حامی ملازمین تھے۔

اس ریفرینڈم کے دو دن بعد ترکی کی پارلیمان نے ملک میں پہلے سے عائد نو ماہ کی ہنگامی حالت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی تھی۔