چھ عرب ممالک کا قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

سعودی اور قطری سربراہان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

سعودی اور قطری سربراہان رواں سال ریاض میں ایک ساتھ نظر آئے تھے

سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کرنے والے چھ عرب ممالک میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔

قطر نے اس اقدام کو بلاجواز اور بلاوجہ قرار دیا ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

سفارتی تعلقات کے انقطاع کو خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ نے ان ممالک سے کہا ہے کہ وہ وہ باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں اور وہ 'دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات سے بچنے اور قومی سلامتی کے پیش نظر' قطر کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بھی بند کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

سعودی عرب نے ایک بیان میں قطر پر ’ایرانی حمایت یافتہ شدت پسند گروپوں‘ کے ساتھ مشرقی علاقوں قطیف اور بحرین میں تعاون کرنے کرنے کا الزام لگایا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے قطری سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ڈبلیو اے ایم کے مطابق ابوظہبی نے دوحہ پر دہشت گرد، انتہا پسند اور مسلکی تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔

ملک کی سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے بھی منگل سے دوحہ کے لیے تمام پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

بحرین نیوز ایجنسی نے کہا کہ مملکت دوحہ کے ساتھ اپنے رشتے منقطع کر رہی ہے۔

اس کا الزام ہے کہ دوحہ ان کے 'اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو متزلزل کر رہا ہے۔'

مصر کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مصر نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس میں یہ اعلان بھی کیا گيا ہے کہ وہ قطری جہاز اور طیاروں کے لیے اپنے بندرگاہ اور ایئرپورٹز بھی بند کر رہا ہے۔

قطر

دارالحکومت: دوحہ

  • آبادی ستائیس لاکھ

  • رقبہ گیارہ ہزار چار سو سینتیس مربع کلومیٹر

  • زبان عربی

  • مذہب اسلام

  • عمر کی حد اناسی برس (مرد) اٹھتر برس (خواتین)

  • کرنسی قطری ریال

Getty Images

مصر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اپنی قومی سلامتی کے تحت کیا ہے۔

سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے علاوہ قطر کو سعودی قیادت میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم عسکری اتحاد سے بھی نکال دیا گیا ہے۔

ایس پی اے کا کہنا ہے کہ اس اخراج کی وجہ یہ ہے کہ قطر کے اقدامات سے 'دہشت گردی مضبوط ہو رہی ہے' اور وہ 'القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں اور باغی ملیشیاؤں کی حمایت کرتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قطر نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کے لیے اپنے طیارے فراہم کیے تھے۔

الجزیرہ ٹی وی نے قطر کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ 'سفارتی تعلقات توڑنے کے اقدامات بلاجواز ہیں اور ایسے دعوؤں اور الزامات کی بنیاد پر کیے گئے ہیں جو حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔'

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلے قطری عوام اور ملک میں مقیم دیگر افراد کی زندگیوں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔

سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلانات مذکورہ ممالک کی جانب سے قطری نیوز ویب سائٹس بلاک کیے جانے کے واقعے کے دو ہفتے بعد کیے گئے ہیں۔

یہ ویب سائٹس قطری امیر تمیم بن حمد الثانی کے ان بیانات کی آن لائن اشاعت کے بعد بلاک کی گئی تھیں جن میں وہ سعودی عرب پر کڑی تنقید کرتے دکھائی دیے تھے۔

قطری حکومت نے ان بیانات کو جعلی قرار دیا تھا اور اسے 'شرمناک سائبر جرم' کہا تھا۔

قطر کا الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے ٹی وی چینل کی انگریزی اور عربی زبانوں میں نشریات دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں اور اکثر اس کی خبروں اور تجزیوں میں خلیجی ممالک کے اندوری مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور خلیجی اور عرب حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقیدی جائزے اور تجزیے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔