قطر سے قطع تعلق کے نتیجے میں کیا کچھ داؤ پر ہے؟

  • سائمن ایٹکنسن
  • بزنس رپورٹر، بی بی سی
دوحہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دوحہ کی بلندوبالا عمارتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ قطر کثیر القومی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت چھ ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کا قطر کی معیشت اور وہاں کاروبار کرنے والے افراد پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

چاہے قطر ائرویز ہو یا الجزیرہ یا پھر مشہور فٹبال کلب بارسلونا کی سپانسر شپ اور پھر 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی، جزیرہ نما عرب کے شمال مشرقی ساحل پر واقع یہ چھوٹی ریاست عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

قطر کی آبادی 27 لاکھ ہے اور دوحہ کی بلندوبالا عمارتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ ملک کثیر القومی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔

ایسے میں حالیہ پیش رفت کا مطلب ہے کہ بہت سی چیزیں داؤ پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

پابندی کا قطر ایئرویز کے آپریشنز پر گہرا اثر پڑے گا

پروازیں

متحدہ عرب امارات میں شامل ریاست ابوظہبی کی سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے منگل کی صبح سے دوحہ کے لیے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد ایئرویز کی چار پروازیں روزانہ دوحہ جاتی ہیں۔

اتحاد ایئرویز کے اس اعلان کے بعد دبئی کی فضائی کمپنی امارات کے علاوہ بجٹ ایئرلائن فلائی دبئی، بحرین کی گلف ایئر اور مصر کی ایجپٹ ایئر کی جانب سے بھی ایسے ہی اعلانات کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے کہا ہے کہ وہ قطر سے آنے اور وہاں جانے والی پروازیں بند کر دیں گے اور قطری فضائی کمپنی قطر ایئرویز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس پابندی کا قطر ایئرویز کے آپریشنز پر گہرا اثر پڑے گا جو کہ دبئی، ابوظہبی، ریاض اور قاہرہ کے لیے روزانہ درجنوں پروازیں چلاتی ہے۔

لیکن اصل مشکل ان ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی پابندی ہے۔ اس سے قطری فضائی کمپنی کو اپنے فضائی راستے تبدیل کرنے پڑیں گے جس کا نتیجہ ایندھن کے زیادہ استعمال اور پرواز کے دورانیے میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوگا۔

مشاورتی کمپنی کارنرسٹون گلوبل کے ڈائریکٹر غنیم نوسابہ کا کہنا ہے کہ قطر ایئرویز نے خود کو اس خطے میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والی فضائی کمپنی کے طور پر منوایا ہے لیکن یورپ کا وہ سفر جس میں پہلے چھ گھنٹے لگتے تھے اب آٹھ سے نو گھنٹوں کا ہو جائے گا جس کا نتیجہ مسافروں کا دیگر کمپنیوں سے رجوع کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

قطر

دارالحکومت: دوحہ

  • آبادی ستائیس لاکھ

  • رقبہ گیارہ ہزار چار سو سینتیس مربع کلومیٹر

  • زبان عربی

  • مذہب اسلام

  • عمر کی حد اناسی برس (مرد) اٹھتر برس (خواتین)

  • کرنسی قطری ریال

Getty Images

خوراک

صحرائی ریاستیں اپنی ارضیاتی ساخت کی وجہ سے خوراک کی پیداوار کے معاملے میں مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔

قطر کے لیے فوڈ سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس کی واحد زمینی سرحد سعودی عرب سے ہی ملتی ہے۔

اس سرحد پر روزانہ ہزاروں ٹرک آر پار جاتے ہیں جن پر اشیائے خوردونوش لدی ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قطر میں استعمال ہونے والی 40 فیصد خوراک اسی راستے سے آتی ہے۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ یہ سرحد بند کر رہا ہے جس کے بعد قطر میں خوراک لانے کے لیے صرف ہوائی اور بحری راستے ہی بچیں گے۔

غنیم نوسابہ کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ ملک میں افراطِ زر کی صورت میں نکلے گا جس کا اثر عام قطری شہری پر پڑے گا۔

ان کے مطابق 'جب چیزیں مہنگی ہو جائیں گی تو آپ دیکھیں گے کہ قطری عوام حکمران خاندان پر دباؤ ڈالنا شروع کرے گی کہ آیا وہ قیادت بدلے یا پھر سمت۔'

بہت سے قطری شہری اپنی روزمرہ کی خریداری کے لیے بھی سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں یہ نسبتاً سستی ہیں اور اب یہ بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2022 میں قطر میں فٹبال کا عالمی کپ منعقد ہو رہا ہے جس کے لیے تعمیراتی کام جاری ہے

تعمیرات

قطر میں اس وقت تعمیراتی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور ریاست میں ایک نئی بندرگاہ، ایک طبی زون، میٹرو کا منصوبہ اور 2022 کے ورلڈ کپ کے حوالے سے آٹھ سٹیڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

ان تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والا کنکریٹ اور سٹیل جہاں بحری راستے سے آتا ہے وہیں اس کا ایک راستہ سعودی عرب سے بذریعہ خشکی بھی ہے۔

اس سرحد کی بندش کا نتیجہ جہاں سامان کی آمد میں تاخیر کی شکل میں نکلے گا وہیں اخراجات میں اضافے کی وجہ بھی بنے گا۔

قطر کی تعمیراتی صنعت پر مال کی کمی کا جو خطرہ منڈلا رہا تھا اسے یہ بندش مزید سنگین کر دے گی۔

امریکہ کے بیکر انسٹیٹیوٹ میں خلیجی ممالک کے ماہر کرسٹن الرچسن کا کہنا ہے کہ 'فضائی حدود اور سرحدوں کی بندش کا اثر ورلڈ کپ کے لیے طے شدہ نظام الاوقات اور سامان کی فراہمی پر پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار مصری شہری قطر میں مقیم ہیں

افرادی قوت

سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد جہاں سعودی، اماراتی اور بحرینی شہریوں کو قطر کا سفر کرنے سے روکا گیا ہے وہیں سعودی حکومت نے وہاں مقیم اپنے شہریوں کو واپسی کے لیے دو ہفتے کی مدت دی ہے۔

انھی 14 دنوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں مقیم قطری شہریوں کو بھی اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔

اگر مصر کی جانب سے بھی ایسی پابندی لگا دی جاتی ہے تو اس کا اثر زیادہ ہوگا۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار مصری شہری قطر میں مقیم ہیں اور ان میں سے اکثریت انجینئرنگ، طب اور قانون کے علاوہ تعمیرات کے شعبوں سے ہی وابستہ ہے۔

اس بڑی تعداد میں کارکنوں اور ملازمین کا چلے جانا قطر میں کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ایک دردِ سر ثابت ہو سکتا ہے۔