موصل کی لڑائی میں دولت اسلامیہ کی جانب سے خودکش بمباروں کا استعمال

عراق

اطلاعات کے مطابق عراقی فوج شہر موصل پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے جبکہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے انھیں روکنے کے لیے خود کش حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قبضہ اب صرف موصل میں قدیم شہر کہلائے جانے والے حصے پر ہی رہ گیا جہاں شدید فضائی بمباری اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا ہے اور مقامی کمانڈرز کو امید ہے کہ وہ جلد ہی شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

تاہم فوج کو دولت اسلامیہ کے خلاف اس آخری معرکے میں بڑی تعداد میں خود کش حملوں کا سامنا ہے جن میں سے کئی حملے تو خواتین کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف اس لڑائی کا آغاز اکتوبر 2016 میں کیا گیا تھا۔

اس آپریشن میں شامل ہزاروں عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں، کرد پیشمرگہ جنگجوؤں، سنی عرب قبائلی اور شیعہ ملیشیا کو امریکی قیادت میں بننے والے اتحاد کی جانب سے فوجی مشاورت اور جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے۔

عراقی حکومت نے مشرقی موصل کی مکمل ’آزادی‘ کا اعلان رواں برس جنوری میں کیا تھا، تاہم شہر کا مغربی حصہ تنگ اور کٹھن راستوں کی وجہ سے افواج کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراقی ایلیٹ کاؤنٹر ٹیررزم سروسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالغنی ال اسدی کا کہنا ہے کہ ’قدیم شہر کے راستوں کی وجہ سے ہر روز لڑائی سخت ہوتی جا رہی ہے۔‘

ایک اور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سمیع ال عریضی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’دشمن گذشتہ تین دنوں سے خود کش بمباروں کا استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر خواتین بمبار۔ اس سے قبل وہ سنائپرز اور بموں کا استعمال کر رہے تھے۔‘

اطلاعات کے مطابق بعض خودکش حملے نوجوان لڑکیوں سے کروائے گئے۔

دوسری جانب عراقی فوج کے خیال میں موصل میں اب تین سو شدت پسندوں سے زیادہ نہیں رہے ہیں، جبکہ اکتوبر میں اس آپریشن سے قبل شدت پسندوں کی تعداد چھ ہزار کے قریب تھی۔

بریگیڈئر جنرل یحیٰ رسول نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ’جیت بہت قریب ہے‘، جبکہ ایک اور کمانڈر نے کہا ہے کہ یہ ’جنگ پانچ دن یا ہفتے میں ختم ہو جائے گی‘۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے موصل پر جون 2014 میں قبضہ کیا تھا۔