کیا ٹرمپ خود کو معاف کرنے پر غور کر رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کو معاف کرنے کی 'مکمل طاقت' موجود ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق صدر روس سے تعلقات کے معاملے پر اپنے خاندان کے افراد، ساتھیوں، بشمول خود کو معاف کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

روس اور صدر ٹرمپ دونوں نے ان تعلقات کی تردید کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو خبر دی تھی کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم صدر کے قریبی ساتھیوں کو معافی دینے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کے پاس لوگوں کو معاف کرنے کی طاقت موجود ہوتی ہے، چاہے ابھی ان پر جرم ثابت نہ ہوا ہو یا الزام تک نہ لگایا گیا ہو۔

تاہم ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک وارنر نے ان رپورٹوں کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'ایسے لوگوں کو معاف کر دینا ایک بنیادی لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔'

ہفتے کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی: 'سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ صدر کے پاس معاف کرنے کی مکمل طاقت موجود ہے۔ لیکن ایسا کیوں سوچیں جب کہ اب تک کیا جانے والا جرم صرف ہمارے خلاف انکشافات ہیں۔ جعلی خبر۔'

صدر ٹرمپ نے ان انکشافات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن میں کہا گیا تھا کہ ان کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران روسی سفیر سے ملاقات کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے امریکہ میں روسی سفیر سرگے کسلیاک سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اخبار نے یہ خبر حالیہ اور سابقہ حکام کے حوالے سے دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA

ان میں سے ایک عہدے دار کے مطابق کسلیاک نے سیشنز سے اہم انتخابی معاملات کے بارے میں بات کی تھی، جن میں ٹرمپ کی روس کے بارے میں پالیسیوں پر بات چیت بھی شامل تھی۔

سیشنز نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کا ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران روس سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ بعد میں جب اس کا انکشاف ہوا تو انھوں نے کہہ دیا کہ ان ملاقاتوں کے دوران انتخابی معاملات زیرِ بحث نہیں آئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کو کئی ٹویٹس میں واشنگٹن پوسٹ کی خبر کو ہدف بنایا۔ 'واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے ایک نیا انکشاف۔ اس بار اٹارنی جنرل جیف سیشنز کے خلاف۔ یہ غیر قانونی انکشافات اب بند ہو جانے چاہییں۔'