کمبوڈیا کے شہر پنوم پین کی مشہورِ زمانہ عمارت کے آخری دن

کمبوڈیا کے شہر پنوم پین کی مشہورِ زمانہ سفید عمارت کو گرائے جانے سے قبل کے کچھ دن

،تصویر کا کیپشن

پنوم پین کا شمار ایشیا کے سب سے تیزی سے پھلتے پھولتے شہروں میں ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں پرانی عمارتوں کو ڈھا کر دھڑادھڑ نئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں اور پرانے باسیوں کو نکال کر ان کی جگہ سرمایہ کار آ رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک جگہ ’سفید عمارت‘ کہلاتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ چند مہینوں میں اس علاقے کے باسی اپنا سامان اٹھا کر بادلِ ناخواستہ یہاں سے چلے گئے۔ 47 سالہ ڈیوی یہاں 1988 سے اپنی والدہ کے ہمراہ رہتی آئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’میں چاہوں گا کہ یہ عمارت قائم رہے۔ یہ اس شہر کے ماضی کی نشانی ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

یہ عمارت 1963 میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی کمبوڈیائی شہریوں کے لیے رہائش فراہم کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ تاہم گذشتہ دہائیوں میں مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی چلی گئی۔

،تصویر کا کیپشن

اس عمارت کی شہرت بھی اچھی نہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ منشیات اور جسم فروشی کا گڑھ ہے۔ تاہم سفید عمارت میں ایک رنگارنگ کمیونٹی آباد تھی جہاں رقاص، فنکار، سرکاری ملازمین، تاجر اور اساتذہ رہا کرتے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

اس عمارت میں 500 کے قریب خاندان آباد تھے۔ لیکن بالآخر انھوں نے معاوضہ قبول کر لیا اور یہاں سے چلتے بنے۔

،تصویر کا کیپشن

مقامی ماہرِ تعمیرات ویراک ایلس روئن کہتے ہیں: ’پنوم پین کا بہت سا ورثہ تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تخلیقی انداز میں تعمیر کی جانے والی عمارت ہمیشہ کے لیے تباہ کر دی جائے گی۔‘

،تصویر کا کیپشن

اس عمارت میں بہت سی دکانیں بھی تھیں جہاں سے عمارت کے رہائشی اشیائے ضرورت خریدتے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

بہت سے لوگوں کے لیے یہ صرف جائے رہائش ہی نہیں تھی بلکہ کمیونٹی بھی فراہم کرتی تھی۔ ایک باسی نے کہا: ’میں صرف اپنا مکان ہی نہیں چھوڑ رہا، بلکہ اپنی برادری بھی چھوڑ کر آ رہا ہوں۔‘

،تصویر کا کیپشن

یہ عمارت کمبوڈیائی ماہرِ تعمیرات لو بان ہاپ اور فرانسیسی انجینیئر ولادی میر بوڈیانسکی نے تعمیر کی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ عشرے میں پنوم پین کی متعدد عمارتیں گرائی جا چکی ہیں جن سے تقریباً سات لاکھ شہریوں کو دوسری جگہوں پر منتقل ہونا پڑا۔

،تصویر کا کیپشن

ایک باسی نے بتایا: ’میرے لیے سفید عمارت تاریخی مقام انگور واٹ کی طرح ہے۔ یہ عمارت ایک عجائب گھر ہے اور اسے عجائب گھر کی طرح محفوظ رکھا جانا چاہیے۔‘