کرائسٹ چرچ کے سیلابی پانی میں جنگلی جانور

سارہ ویبر نیوزی لینڈ کے شہر بیکینہم کے علاقے میں رہتی ہیں جو حالیہ دنوں میں خراب موسم کی زد میں ہے۔ انھوں نے مشکل وقت میں لوگوں کو خوشی دینے کے لیے تصاویر بنائیں۔

،تصویر کا کیپشن

سارہ ویبر نیوزی لینڈ کے شہر بیکینہم کے خاموش علاقے میں رہتی ہیں جو حالیہ دنوں میں خراب موسم کی زد میں ہے۔ 36 سالہ سارہ کہتی ہیں ’میرے شہر میں بہت بارش ہوئی اور دریا کے قریب رہائشی علاقے زیر آب آ گئے اور بہت سے مکانات تباہ ہوئے۔‘

،تصویر کا کیپشن

ان کا کہنا ہے ’میں اس علاقے میں رہتی ہوں جہاں سب سے زیادہ سیلاب آیا۔ میں باہر نکلی سیلاب کی تصاویر لینے اور اس کے بعد پورا دن میں گھر ہی میں بند رہی۔ میں نے سوچا کیوں نہ میں فوٹوشاپ سے اس سیلاب میں کچھ جانور بنا دوں۔‘

،تصویر کا کیپشن

سیلابی پانی میں انھوں نے سب سے پہلے لوک نیس مونسٹر بنایا۔ ’میں نے لوک نیس کو جب پانی میں فوٹو شاپ کیا اور اپنے ہمسائے کی فیس بک پر شیئر کی۔ مجھے اتنے زیادہ کمینٹس آئےاور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ پانی میں مزید جانور بناؤ۔‘

،تصویر کا کیپشن

سارہ ویبر کا کہنا ہے کہ اس مشکل وقت میں لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ لانا اہم تھا۔ ان کو نہیں معلوم تھا کہ ان کی یہ سوچ اتنی پسند کی جائے گی۔ ’میرا مقصد صرف اپنے ہمساؤں کے چہرے پر مسکراہٹ لانا تھا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں اس میں کامیاب ہوئی۔ بشمول ان کے جن کے مکانات اس قدرتی آفت میں تباہ ہو گئے۔‘

،تصویر کا کیپشن

اس تصویر میں بیکنہیم میں آئے سیلابی ریلے میں ڈولفن چھلانگ لگا رہی ہے۔ ’لوگوں نے مزید تصاویر مانگیں اور جو میں فوٹو شاپ کر رہی ہوں وہ کوئی عمدہ معیار کی نہیں ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

فیس بک کے بہت سے صارفین نے سارہ ویبر کے پیج پر تبصرے کیے اور تعریفیں کیں اور اپنا اپنا مزاح شیئر کیا۔ ویلنگٹن سے کلف پریٹ نے لکھا ’کرائسٹ چرچ میں سیلاب۔ پانے میں داخل نہ ہوں۔ تاحال پانی میں مگرمچھ ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔‘ تاہم ان کے اس تبصرے کے فوری بعد پانی میں ایک مگر مچھ فوٹو شاپ کر دیا۔