حرم الشریف پر سختی کے خلاف فلسطینی احتجاج جاری

فلسطینی شہری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

حرم الشریف میں اسرائیل کی جانب سے نئے سکیورٹی انتظامات کی مخالفت میں فلسطینی نے نمازیں مسجد کے باہر گلیوں میں ادا کرنی شروع کر دی ہے

فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم کے حساس مذہبی مقام پر میٹل ڈیٹیکٹر ہٹائے جانے کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ رابطے منجمد رکھیں گے۔

میٹل ڈیٹکٹر لگائے جانے پر فلسطینیوں کی جانب سے خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں کیونکہ ان کے خیال سے یہ اسرائيلیوں کی جانب سے اس مقدس مقام کو کنٹرول کرنے کی کوشش تھی۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کے اندر لائے جانے کو روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا اور اب اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس متبادل کے طور پر 'کم مداخلت والی نگرانی کے منصوبے' ہیں۔

خیال رہے کہ طرفین پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے مقدس مقام پر جاری تنازع کو حل کرنے کا دباؤ ہے۔ اس مقام کو یہودی ٹیمپل ماؤنٹ اور مسلمان حرم الشریف کہتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ کے ایلچی نے جمعے کی نماز سے قبل تک کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس دن ہزاروں لوگ نماز ادا کرنے آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بہت سے فلسطینیوں نے میٹل ڈیٹیکٹرز کی مخالفت کی ہے

14 جولائی کو دو اسرائیلی پولیس اہلکار کی اسرائیلی عرب نژاد بندوق بردار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد عارضی طور پر دو دنوں تک بند رہنے کے بعد جب اس مقام کو دوبارہ کھولا گيا تو اس کے داخلے پر میٹل ڈیٹیکٹرز لگے ہوئے تھے جس کے بعد فلسطینیوں نے اس احاطے کا بائیکاٹ کیا اور انھوں نے مسجد کے بجائے قدیم شہر کے باہر گلیوں میں نماز ادا کرنا شروع کر دی۔

اس کے بعد کے دنوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشرقی یروشلم اور غرب اردن میں ہونے والی جھڑپوں میں چار فلسطینی مارے گئے جبکہ تین اسرائیلی شہریوں کو ایک فلسطینی نے چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔

بین الاقوامی خدشات کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم نے منگل کو کہا کہ وہ میٹل ڈیٹیکٹرز کے بجائے 'جدید ٹیکنالوجی اور دوسرے ذرائع' استعمال کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

اردن حرم الشریف کا پاسبان ہے

لیکن صدر عباس اور اس احاطے کی نگرانی کرنے والے سینيئر مسلم علما نے اس تبدیلی کو مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ دس دن قبل حملے سے پہلے جو انتظامات تھے وہی واپس لائے جائیں۔

فلسطینی رہنما نے کہا کہ یہ ضروری ہے تاکہ یروشلم میں حالات معمول پر آ جائيں اور ہم دو طرفہ تعلقات کے متعلق اپنے کام کو از سر نو جاری کر سکیں۔

انھوں نے کہا کہ جب تک متنازع سکیورٹی نظام رہے گا تب تک اسرائیل سے حکومت سے رابطے منجمد رہیں گے۔

وقف نے بھی کہا کہ مسلمان اس جگہ عبادت کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور اس مقام کے باہر گلیوں میں عبادت کریں گے۔