حماس کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں برقرار

حماس
،تصویر کا کیپشن

حماس تنظیم یورپی یونین کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے

یورپی یورنین کی اعلی ترین عدالت نے فلسطینی مسلح گروہ حماس کو دہشت گردوں تنظیموں کی فہرست میں رکھنے کے اٹھائیس ملکی بلاک کے فیصلے کے توثیق کر دی ہے۔

یورپی عدالت انصاف نے جنرل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حماس کے ارکان پر سفری پابندیوں اور اس کے اثاثے منجمد رکھنے کے بارے میں شواہد ناکافی ہیں۔

یورپ کی اس ذیلی عدالت نے سنہ دو ہزار چودہ میں کہا تھا کہ حماس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیے جاے کا فیصلہ اخباری اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا اور اس میں کسی ادارے کا فیصلہ موجود نہیں ہے۔

لکزمبرگ میں قائم یورپی عدالت انصاف نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی فرد یا گروہ کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے وقت کسی متعلقہ ادارے کا فیصلہ درکار ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی تنظیم یا فرد کا نام اس فہرست میں برقرار رکھنے کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا اس کے فیصلے میں اس بات کی توثیق کی گئی ہے کہ یوری یونین کسی شخص یا تنظیم کا نام دہشت گردوں میں رکھنے میں حق بجانب ہو گی اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس شخص یا تنظیم سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے یا وہ دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہو سکتا ہے۔

یورپی عدالت انصاف نے کہا کہ وہ یہ مقدمہ واپس ذیلی عدالت کو بھیج رہی کہ وہ ان حقائق اور دلائل پر از سر نو غور کریں جن سے سنہ دو ہزار چودہ کے فیصلے میں صرف نظر ہو گیا تھا۔

ایک اور فیصلے میں یورپی عدالت انصاف نے سری لنکا کی تامل ٹائیگر تنظیم کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے ذیلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔