دولتِ اسلامیہ سے آخری شہر چھڑانے کے لیے حملہ

Great Mosque of al-Nuri, July 2014 تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سال جولائی میں موصل کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اب عراق میں دولتِ اسلامیہ کے پاس تلعفر آخری اہم شہر رہ گیا ہے

عراقی حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ آخری عراقی شہر تلعفر کو آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ رات وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے ٹیلی ویژن نے نشر کردہ تقریر میں اس حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جہادیوں کے پاس اب دو ہی راستے رہ گئے ہیں: 'ہتھیار ڈال دو یا مر جاؤ۔'

عراقی فوج نے جولائی میں دولتِ اسلامیہ کے گڑھ موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔ تلعفر اس سے 55 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

تلعفر میں شیعوں کی اکثریت تھی اور یہاں 2014 میں دولتِ اسلامیہ قابض ہو گئی تھی۔ یہ شہر شامی سرحد اور موصل کے درمیان اہم گزرگاہ ہے اور یہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے لیے کمک کا بڑا مرکز رہا ہے۔

زمینی حملے سے پیشتر عراقی جنگی طیارے کئی دنوں سے اس شہر کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اتوار کو حیدر العبادی نے عراقی فوجی کی سیاہ وردی پہن کر اور عراقی جھنڈے کے آگے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ 'تلعفر کو آزاد کروانے کے لیے معرکہ شروع ہو گیا ہے۔'

انھوں نے کہا: 'میں داعش سے کہتا ہوں کہ ان کے پاس ہتھیار ڈالنے یا مرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔'

انھوں نے تقریر کے اختتام پر عراقی فوجیوں کو مخاطب کر کے کہا: 'تمام دنیا آپ کے ساتھ ہے۔'

عراقی وزیرِ اعظم کی تقریر سے چند گھنٹے قبل عراقی فضائیہ نے تلعفر پر پرچیاں گرائیں جن میں شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ 'آخری حملے کے لیے تیار ہو جائیں۔'

'جنگ شروع ہونے والی ہے جس میں ہمیں فتح نصیب ہو گی۔ ان شااللہ۔'

نامہ نگاروں کے مطابق عراق فوج کو تلعفر میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، حالانکہ وہ حالیہ بمباری اور رسد نہ ملنے سے خاصے کمزور پڑ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سال جولائی میں موصل کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اب عراق میں دولتِ اسلامیہ کے پاس تلعفر آخری اہم شہر رہ گیا ہے

نومبر 2016 میں شیعہ اکثریتی تنظیم حشد الشعبی نے تلعفر کے جنوبی مضافات میں واقع ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

پچھلے مہینے ایک سینیئر عراقی کمانڈر، جو تلعفر کے میئر رہ چکے ہیں، کہا تھا کہ شہر میں ڈیڑھ سے دو ہزار جنگجو ہیں اور ان کے اہلِ خانہ شہر چھوڑ چکے ہیں۔

میجر جنرل نجم الجبوری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ جہادی 'تھکے ہارے اور دل برداشتہ ہیں' اور انھیں موصل کی طرح یہاں کسی سخت جنگ کی توقع نہیں ہے۔ موصل پر قبضے کی جنگ کئی ماہ چلی تھی اور اس میں عراقی فوج کا خاصا جانی نقصان ہوا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ موصل کے برعکس تلعفر کا صرف ایک حصہ ہی تنگ گلیوں پر مشتمل ہے۔ شہر میں بہت کم عام شہری ہی باقی بچے ہیں، اور اپریل کے بعد سے اب تک 49 ہزار کے قریب شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

تلعفر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کے پاس یہاں سے 170 کلومیٹر جنوب مشرق میں دو ہاجیواوا کے اردگرد کچھ علاقہ بچا ہے۔ اس کے علاوہ دریائے فرات کی وادی میں انا سے القائم تک ان کے پاس کچھ علاقہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں