ہیروشیما پر گرنے والا ایٹم بم لےجانے والا بحری جہاز مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جہاز بارہ منٹ کے اندر ہی ڈوب گیا تھا

دوسری جنگِ عظیم میں سمندر میں ڈوبنے والے امریکی بحری جنگی جہاز ’انڈیناپولس‘ کو 72 سال بعد تلاش کر لیا گیا ہے۔

اس جہاز کو ایک جاپانی آبدوز نے نشانہ بنا کر اس وقت ڈبو دیا تھا جب یہ ہیرو شیما پر پھینکے جانے والے جوہری بم کے حصے امریکی افواج کو پہنچا کر واپس امریکہ جا رہا تھا۔

جہاز اٹھارہ ہزار فٹ کی گہرائی سے ملا ہے۔ جہاز کو تلاش کرنے والے ٹیم کے سربراہ اور مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پول ایلن کے مطابق اس جہاز کے ملنے پر وہ شکر گزار ہیں۔

انڈینا پولس نامی اس جہاز کو ایک چاپانی آبدوز نے 30 جولائی 1945 کو فلپائین کے قریب سمندر میں میزائل سے نشانہ بنا کر ڈبو دیا تھا۔

اس واقعے میں سینکڑوں امریکی بحریہ کے ملازمین ہلاک ہوئے تھے۔ یہ کسی ایک واقعے میں امریکی بحریہ کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔

جہاز بارہ منٹ کے اندر ہی ڈوب گیا تھا اور جہاز کے عملے کی جانب سے مدد کے لیے کوئی پیغام بھی موصول نہیں ہوا تھا۔ بچ جانے والے عملے کے افراد چار روز تک سمندر میں مدد کا انتظار کرتے رہے۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا وہاں شارک مچھلیاں بھی بڑی تعداد میں تھیں۔ جہاز میں سوار ایک شخص جو اس واقعے میں بچ گیا تھا ان کے بقول ’آپ شارک مچھلیوں کو چکر لگاتا دیکھ سکتے تھے۔‘

جہاز تک بروقت مدد نہ پہنچنے کی وجہ اس کا خفیہ مشن بتایا جاتا ہے۔ اس کے مقام کے حوالے سے معلومات بھی پوشیدہ رکھی گئی تھیں۔

جہاز کی تلاش میں مصروف ٹیم کو رواں ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو کامیابی ملی تھی۔

اس جہاز کی وجہ شہرت اس کا آخری سفر تھا جس میں اس نے جاپان کے قریب واقع ایک امریکی فوجی اڈے تک ’لٹل بوائے‘ نامی جوہری بم کے حصے پہنچائے تھے۔

جہاز کے ڈوبنے کے ایک ہفتے بعد یہ بم جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرایا گیا تھا۔

اس کے ساتھ جاپان کے ایک دوسرے شہر ناگاساکی پر بھی امریکہ نے جوہری بم گرایا تھا، جس کے باعث جاپان ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوگیا تھا۔