سعودی عرب میں سٹرک پر رقص کرنے والے لڑکے کو رہا کر دیا گیا

سعودی عرب میں بچے کا رقص تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @ahmed
Image caption سعودی عرب کے شہر جدہ کی مصروف سڑک پر بچے نے رقص کیا

سعودی عرب کی پولیس نے ایک مصروف سڑک پر رقص کرنے کے جرم میں گرفتار چودہ برس کے ایک لڑکے کو بغیر کسی فردِ جرم عائد کیے رہا کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نو عمر لڑکے نے ضمانت نامے پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے 'وہ آئندہ کسی ایسے طرز عمل میں ملوث نہیں ہوں گے جو انھیں یا دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔'

سعودی حکام نے نو عمر لڑکے کا نام ظاہر نہیں کیا تاہم یہ بتایا ہے کہ وہ کسی دوسری عرب ریاست کا شہری ہے۔

٭ کانسرٹ میں رقص کے مخصوص انداز پر سعودی گلوکار گرفتار

٭ ویڈیو میں مِنی سکرٹ پہنے دیکھی گئی سعودی خاتون رہا

٭ ’اگر سکرٹ پہنی تو جہاز سے اترنا پڑ سکتا ہے‘

بچے کی ہسپانوی گانے ماكارينا پر رقص کرتے ہوئے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی جس کے بعد پولیس نے اسے منگل کو سعودی عرب کے شہر مکہ طلب کیا اور اس سے 'غیر مناسب طرزِ عمل' کے بارے میں سوالات کیے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے اس فیصلے کو متعدد افراد نے ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'بچپن کی خلاف ورزی' قرار دیا۔

سعودی وزارتِ داخلہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ گرفتار بچے کو ضمانت نامے پر دستخط کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ بچے کو طلب کیے جانے کا مقصد صرف اسے متنبہ کرنا تھا۔

اس سے پہلے حکام نے چودہ برس کے لڑکے کو ایک مصروف سڑک پر رقص کرنے پر گرفتار کر لیا تھا۔

بچے کی ہسپانوی گانے ماكارينا پر رقص کرتے ہوئے بنائی گئی ویڈیو ٹویٹر پر وائرل ہو گئی تھی جس کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔

45 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ میں بچے کو سنہ 1990 کی دہائی کے مقبول گانے پر ڈانس کے دوران ٹریفک میں خلل ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کلپ کے بارے میں خیال ہے کہ اسے جولائی سنہ 2016 میں پوسٹ کیا گیا تھا۔

قدامت پسند ملک سعودی عرب میں باقاعدہ فوجداری قوانین نہ ہونے کی وجہ سے حکام اور ججوں کو بچوں کی گرفتاری اور انھیں سزا دینے کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

اس ویڈیو کلپ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منقسم آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں بعض لوگوں نے بچے کا دفاع کیا ہے اور یہاں تک کہ اسے ہیرو قرار دیا ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس کا رویہ غیر اخلاقی تھا۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی جنوب مغربی سعودی عرب میں ایک مقبول گلوکار کو ایک کانسرٹ کے دوران 'ڈیبنگ' کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ڈیبنگ رقص کا ایک ایسا انداز ہے جس میں ڈانس کرنے والا ایک بازو سے چہرہ چھپاتا ہے اور دوسرے بازو کو اپنے پیچھے کی جانب بڑھاتا ہے۔

قدامت پسند سعودی عرب میں ڈیبنگ ممنوع ہے کیونکہ حکام کے خیال میں یہ انداز منشیات کے کلچر کی نمائندگی کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں