آپ کے کپڑے دفتر آنے کے لیے موزوں نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لباس کے حوالے سے بنائے جانے والے عجیب قوانین سے لوگ زیادہ خوش نہیں دکھائی دیتے اور اب تو اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی جانے لگی ہے۔

جب نیکولا تھارپ کو ہیل والے جوتے نہ پہننے کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تو لوگوں نے اس پر شدید تنقید کی۔ نیکولا کمپنی کی اس پالیسی سے بہت ناخوش تھیں۔

دفارتر میں بعض اوقات لباس کے حوالے سے بنائے جانے والے قوانین اکثر اتنے عجیب ہوتے ہیں کہ ان پر حیرت ہوتی ہے۔ عورتوں اور مردوں دونوں کو ان سخت قوانین کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

یہ قوانین صرف کارپوریٹ دفاتر پر ہی لاگو نہیں ہوتے ہیں، کچھ دن قبل تک برطانیہ کے ہاؤس آف کامن میں یہ روایت تھی کہ رکن پارلیمان صرف تب ہی ٹائی پہن سکتے ہیں جب انھوں نے سوال پوچھنا ہو۔ سپیکر جان برکو نے حال ہی میں صدیوں پرانی اس روایت کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری جانب امریکہ کے ایوان نمائندگان کی سپیکر لابی میں ایک خاتون صحافی کو بنا آستین کے لباس کے باعث اندر آنے کی اجازت نہ دی گئی تو سپیکر پال رائن کو دباؤ کی وجہ سے لباس کے قواعد کے حوالے سے سوالوں کے جواب دینا پڑے۔ بعد میں ان سے کہا گیا کہ وہ لباس کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کریں۔

مناسب لباس کیا ہے؟

تقریباً دو ہزار فراد پر کیے جانے والے سروے میں سے تقریباً 80 فیصد جو کسی فیشن ادارے سے منسلک ہیں کا کہنا تھا کہ وہ وہی لباس پہنتے ہیں جو ان سے کہا جاتا ہے جب کہ 40 فیصد کو ہر وقت بزنس سوٹ ہی پہننا پڑتا ہے۔

باس

ایک کاروباری لباس کیا ہے، اس کی تعریف بہت طویل ہے۔ مردوں کے معاملے میں، اچھی بات یہ ہے کہ انھیں سوٹ اور ٹائی کے ساتھ کام چلانا پرتا ہے۔

لیکن خواتین کے لیے، اس حوالے سے کوئی خاص اصول نہیں ہیں۔ لہذا خواتین کے لیے کاروباری لباس کا ایک غیر معمولی تصور ہے۔ وہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ صحیح کاروباری لباس کیا ہے اور اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ آج آپ کے کپڑے دفتر آنے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ اور پھر ان سب سے ہٹ کر ہم جنس پرست لوگ کیا کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کپڑوں کے بارے میں اتنی فکر کیوں ہے؟ سروے میں 61 فیصد لوگوں نے کہا کہ لباس کے قواعد سے ان کے کام میں کوئی فرق نہیں آتا اور 45 فیصد کا یہ کہنا تھا کہ اگر وہ اپنے لباس میں آرام دہ محسوس کرتے تو ان کی پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کہتے ہیں ’اگر ملازم کی صلاحیت بزنس سوٹ سے بڑھ جاتی ہے، تو پھر اپنی پسند کا لباس پہننے کی رعایت ملنے سے مالی بحران پیدا ہو گا۔‘

سروے کے مطابق 12 فیصد افراد لباس سے منسلک قوانین کی وجہ سے اپنی ملازمتوں کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کال سینٹر میں کام کرنے والے لوگوں کے معاملے میں یہ اعداد و شمار 32 فیصد ہیں۔ اگر لوگ ملازمت چھوڑنا شروع کرتے ہیں تو کمپنی کی پیداور میں کمی آسکتی ہے۔

کپڑوں پر اس طرح کی بحث؟

لباس کے حوالے سے قوانین کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لباس پہننے میں رعایت دینے سے ان کے اداروں یا کمپنیوں کا تاثر خراب جاتا ہے۔ برطانیہ کے قانون ساز پیٹر بور نے کہا کہ اس کے بغیر، پارلیمنٹ ایک گاؤں دکھائی دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

شاید یہ ٹھیک ہے، لیکن جب آسٹریلوی سینیٹر ڈرن ہیگ کو پارلیمینٹ میں سویا ہوا پایا گیا تو وہ ایک سوٹ بوٹ اور ٹائی پہنے ہوئے تھے۔

اگر آپ ایک بزنس سوٹ پہنے ہوئے ہیں تو آپ کی تصویر بھی ایک رہنما اور قابل اعتماد دکھائی دے گی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ٹی شرٹ اور ہڈ سے آپ ایک لاپرواہ شخص دکھائی دیں گے لیکن مارک زکربرگ پہنیں تو ان کی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں کوئی شک نہیں کر سکتا۔

مارک زکربرگ جیسی نوجوان قیادت کی وجہ سے لباس کے پرانے قواعد کی جگہ نئے قواعد لائے جانے کا امکان ہے۔ تاکہ ملازمین وہ لباس پہن سکیں جس میں وہ آرام دہ محسوس کریں۔ انہیں سینئر حکام کے خیالات کے مطابق اپنے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کردار سوٹ ٹائی سے کتنا متاثر ہوتا ہے؟

ہم اسی لباس میں آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتے ہیں جو ہماری شخصیت کے مطابق ہوں۔ ہر انسان کے ذہن میں ایک تصویر ہوتی ہے، کہ کوئی شخص جنس، صلاحیتوں یا بالغ شخص کے طور پر خود کو کس طرح دیکھنا چاہتا ہے، اور وہ اس تصویر کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ کسی بھی شخص کو اس طرح کے کپڑے پہننے کے لیے مجبور کرنا، جو اس کے شخصیت کے برعکس ہیں، صحیح نہیں ہے۔

سٹاربکس کمپنی نے لباس کو آرام دہ کر دیا اور اس کے ملازمین کو کھیلوں کی ٹوپیاں اور رنگا رنگ لباس پہننے کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی۔

اسی بارے میں