شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر جاپان برہم، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست

People watch a television broadcast reporting the North Korean missile launch at the Seoul Railway Station (26 August 2017) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو جاپان کی فضائی حدود سے گزرتا ہوا سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شمالی کوریا کا میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزارا ہے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم نے کہا ہےکہ میزائل تجربہ شرمناک اور غیر معمولی اقدام ہے اور یہ ایک سنجیدہ اور سنگین خطرہ ہے جس جو خطے کے امن اور سلامتی کو خراب کر رہا ہے۔

جاپان اور امریکہ نے شمالی کوریا کو جواب دینے کے لیے فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔

٭ شمالی کوریا نے سمندر میں تین میزائل داغ دیے

٭ حملے کی صورت میں آسٹریلیا ‘امریکہ کی مدد کرے گا‘

٭ شمالی کوریا کا گوام کو دنوں میں نشانہ بنانے کا وعدہ

جاپان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب میزائل کا یہ تجربہ علی الصبح کیا گیا، جو ملک کے مشرقی علاقے سے گزرتا ہوا سمندر میں جا گرا۔ جاپان کی حکومت نے میزائل کو مار گرانے کی کوشش نہیں کی۔

میزائل گزرنے سے سائیرن بجنے لگے اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تہہ خانوں میں چلے جائیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق میزائل اپنے ہدف تک پہچنے سے پہلے ہی تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تین تجربے کیے تھے۔

اس حالیہ تجربے کے بعد جاپان کی حکومت نے میزائل کی حد میں آنے والے افراد کو محتاط رہنے کو کہا لیکن سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

شمالی کوریا کے اس اقدام کے بعد جاپان کے وزیراعظم شینزو ابے نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اپنی عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔

جاپان کی کابینہ کے چیف سیکریٹری نے حالیہ تجربے کو 'غیر مثالی اور گہرا خطرہ' قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان اس کے ردعمل میں 'اہم اقدامات' کرے گا۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس میزائل تجربہ کے راستے کی وجہ سے جاپان اور شمالی کوریا کے مابین کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل شمالی کوریا نے گوام میں امریکی حدود میں بھی میزائل داغا تھا

امریکی محکمۃ دفاع پینٹگان کا کہنا ہے کہ حالیہ تجربہ امریکہ کے لیے خطرہ نہیں ہے اور امریکی افواج اس کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے شمالی کوریا نے گوام میں میزائل داغا تھا جس کے جواب میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو خبرادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو دھکانے پر اُسے بھی آگ اور غصہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں