جنوبی افریقہ میں ’انسانی گوشت کھانے پر پانچ افراد گرفتار‘

انسانی گوشت

جنوبی افریقہ میں انسانی گوشت کھائے جانے کے معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کوازول نٹال صوبے کے شیامویا گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب بغیر سر والی ایک لاش ملی۔

25 سالہ زانیل لاشویو جولائی سے لا پتہ تھیں۔ ان کے خاندان کا خیال ہے کہ وہ کسی آدم خور کا شکار ہوئی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے ابھی تک پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

انسانی گوشت کے اس معاملے میں پانچ ملزمان کو پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف مظاہرہ بھی ہوا۔ ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور اب ستمبر کے آخر میں انھیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ حکام کے مطابق اس معاملے میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب خود کو ڈاکٹر کہنے والے ایک شخص نے پولیس سے رابطہ کیا اور یہ اعتراف کیا کہ وہ انسانی گوشت کھاتے کھاتے اب تھک چکے ہیں۔ ان ہی کی نشاندہی پر زانیل کی لاش برآمد کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کو پہلے اس کی بات پر یقین نہیں آیا لیکن جب انھوں نے ثبوت کے طور پر انسانی ہاتھ اور پاؤں پیش کیے تو انھیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

اس کے بعد وہ پولیس کو اپنے کرائے کے مکان پر لے گئے جہاں آٹھ انسانی کان ایک برتن میں رکھے تھے۔

Image caption ان چٹانوں کے درمیان زانیل کی لاش ملی تھی

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزم کی جانب سے ان کانوں کو گاہکوں کو پیش کیا جانا تھا۔ انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ اس کے کھانے سے دولت، طاقت اور تحفظ فراہم ہوتا ہے۔

وہیں پڑے ایک سوٹ کیس میں جسم کے کئی حصے بھی ملے۔ پولیس نے زانیل لاشویو کے پھٹے کپڑے بھی برآمد کیے۔ زانیل کے اہل خانہ نے ان کے کپڑے کی شناخت کر لی ہے۔

زانیل کے جسم کی تصدیق کے لیے پولیس ابھی ڈی این اے کے نتائج کی منتظر ہے۔

زانیل کے اہل خانہ نے ابھی ان کے جسم کے حصوں کو دفن نہیں کیا ہے۔ ان کی بڑی بہن، نوزیفو اینٹیلے نے اپنے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا: 'ہم صرف اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ اس نے اپنی زندگی کی کس طرح بھیک مانگی ہو گی۔ اسے بہت دردناک موت ملی ہے۔'

Image caption زانیل کے اہل خانہ کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے جس میں ان کی بہن نوزیفو دائیں جانب سے دوسری ہیں

انھوں نے کہا: 'اس کے کپڑے گھاس اور مٹی میں اٹے ہوئے تھے جس سے یہ واضح ہے کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بہت جدوجہد کی تھی۔'

اطلاعات کے مطابق یہ دیسی معالج ایسکورٹ کے پاس آنسبرگ ڈرفٹ میں رہ رہا تھا۔ اسے وہاں 'مونیوو' کہا جاتا ہے اور مقامی زولو زبان میں اس کا مطلب 'پلید' ہوتا ہے۔

دیسی معالج فلانی مگوبانے نام کے ایک شخص سے یہ گھر کرایہ پر لیا تھا۔ فلانی کے بھائی کو بھی ملزم کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فلانی نے بتایا: میں جانتا تھا کہ میرا چھوٹا بھائی اس طرح کے لوگوں کے جھانسے میں آ سکتا ہے۔ وہ میری طرح بالکل غریب تھا اور اس نے اسے شہرت کا لالچ دیا۔

فلانی نے کہا کہ قریبی کرایہ دار وہاں سے سڑے ہوئے گوشت کی بو کی شکایت کرنے آتے تھے۔

Image caption مکان مالک کا کہنا ہے کہ ملزم کرایے پر اسی گھر میں دو ماہ سے مقیم تھا

ان کے مطابق مونیوو دو ماہ سے ہی اس گھر میں تھا۔ ’مجھے یہ علم بالکل نہیں تھا کہ وہاں اس نے انسانی جسم کے ٹکڑے رکھ رکھے ہیں کیونکہ میں وہاں نہیں رہتا تھا۔‘

فلانی کا خیال ہے کہ مونیوو نے ان کے بھائی اور تین دیگر بےروزگار لڑکوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا۔ اس پر یہ الزام ہے کہ وہ ان لڑکوں سے آدھی رات کے وقت قبروں کی کھدائی کرواتا تھا تاکہ وہ جادوئی تعویذ بنا سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں