ہوسٹن کے کیمیائی پلانٹ سے نکلنے والا دھواں ’نہایت خطرناک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سائٹ پر کام کرنے والے آخری اہلکاروں کو بھی منگل کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا

امریکہ کی ایمرجنسی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے شہر ہوسٹن میں کیمیائی پلانٹ سے دھواں نکل رہا ہے اور یہ نہایت خطرناک ہے۔

امریکی ایمرجنسی ایجنسی کے سربراہ بروک لونگ نے کہا کہ حکام آرکیما کیمیائی پلانٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس کیمیائی پلانٹ کے قریب تعینات ایک پولیس اہلکار کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ دیگر نو اہلکاروں کو احتیاطی طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔

* ہوسٹن: شدید بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں

* ’ہاروی‘ سے 20 ہلاکتیں، ہیوسٹن میں رات کا کرفیو نافذ

اطلاعات ہیں کہ پلانٹ سے دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں سے خارج ہونے والی گیس دھماکوں کے نتیجے میں خارج نہیں ہوئی ہے۔

اس پلانٹ کے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے میں رہنے والے رہائشیوں کو اس وقت علاقے سے نکال لیا گیا جب اس پلانٹ کے حکام نے کہا کہ دھماکوں اور آگ لگنے کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ سمندری طوفان ہاروی کے باعث ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے کراس بے میں واقع آرکیما پلانٹ میں کیمیائی کمپاؤنڈز کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ ان تمام کیمائی مادوں کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سمندری طوفان ہاروی کے نتیجے میں اب تک 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے ٹیکساس اور مغربی لوئیزیانا میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

ہوسٹن میں تیل کی کمپنیوں کی جانب سے ریفائنریز بند کر دیے جانے کی وجہ سے امریکہ میں توانائی کی فراہمی معطل ہے۔

ہوسٹن کے سیلاب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد اور مرنے والوں کی لاشیں نکالنے کے لیے گھر گھر تلاش کا عمل شروع کررہے ہیں۔

ہوسٹن کے اخبار نے مقامی فائر چیف کے حوالے سے لکھا کہ 'ہم ہر بلک اور ہر گھر اور ہر گلی کی تلاشی لیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص پیچھے نہ رہ گیا ہو۔'

'تمام گھروں اور علاقے کی تلاشی میں کم سے کم دو ہفتوں کا وقت لگے گا۔

آرکیما کیمیکل پلانٹ نے طوفان کی آمد سے قبل ہی جمعے کو اپنی پیداوار بند کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہیوسٹن میں تیل کی کمپنیوں کی جانب سے ریفائنریز بند کر دیے جانے کی وجہ سے امریکہ میں توانائی کی فراہمی معطل ہے

تاہم شہر میں ہونے والی 40 انچ بارش سے اس پلانٹ کے علاقے میں بھی سیلاب آیا اور اس کے لیے بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ اس پلانٹ کے جنریٹرز بھی سیلاب میں ڈوب گئے۔

اس کیمیائی پلانٹ میں تیار ہونے والے مادوں کو دواؤں سے لے کر تعمیراتی سازو سامان میں استعمال ہوتا ہے اور یہ گرم ہونے پر انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے۔

کمپنی کے سی ای او رچرڈ روے کا خبر راں ایجنسی رؤٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'اس کی آگ پٹرول سے لگنے والے شدید آگ جیسی ہوتی ہے۔ '

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے اٹھنے والا سیاہ دھواں جلد، آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے باعث تکلیف ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیوسٹن کے سیلاب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے گھر گھر تلاش کا عمل شروع کررہے ہیں

'علاقے میں جمع شدہ پانی اور بجلی کی عدم فراہمی نے ہمارے پاس سے سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔'

یہاں ممکنہ طور پر لگنے والی آگ سے زیادہ خطرہ تو اس پلانٹ کو ہی ہے لیکن اس کے گرد ڈیڑھ کلومیٹر کا رہائشی علاقہ احتیاطاً خاللی کروا لیا گیا ہے۔

اس سائٹ پر کام کرنے والے آخری اہلکاروں کو بھی منگل کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ نے اس پلانٹ کے اوپری علاقے سے پروازوں کے گزرنے پر بھی عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں