میانمار: گمراہ کن، جعلی تصاویر سے روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ مزید خراب ہونے کا خدشہ

برما تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1971 میں بنگلہ دیش کے آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریتی ریاست رخائن میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور جعلی تصاویر کا انبار لگ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے لگائی جانے والی بیشتر تصاویر نہ صرف کافی دہشت ناک اور مکروہ ہیں بلکہ وہ سرے سے اس علاقے کی ہیں ہی نہیں۔

روہنگیا مسلمان کئی دہائیوں سے میانمار میں کشمکش کا شکار ہیں جہاں ان کو ایذارسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

روہنگیا سب سے زیادہ ستائی ہوئی اقلیت!

پاکستان کی روہنگیا مسلمان کے خلاف مظالم پر مذمت

رخائن: ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی

اس مسئلے میں مزید دشواری کا اضافہ رخائن کی ریاست تک رسائی کی مشکلات کی وجہ سے ہے جہاں میانمار کی حکومت کی رٹ کے تحت غیر ملکی صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے مصدقہ اور آزادانہ معلومات حاصل کرنا بہت دشوار ہے۔

اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق رخائن میں گذشتہ ہفتے عسکری پسند گروہ آراکان روہنگیا سیلویشن آرمی نے پولیس کی 25 مختلف چوکیوں پر حملہ کیا اور کچھ مقامات پر گاؤں میں موجود روہنگیا مسلمانوں نے اس گروہ کے ساتھ مل کر سیکورٹی حکام کے خلاف کاروائی میں حصہ لیا۔

دوسری جانب کئی واقعات میں سیکورٹی فورسز نے مسلح بدھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں کے گھروں کو جلانا شروع کر دیا اور وہاں کے رہائشیوں پر فائرنگ کی۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ان پر تشدد واقعات کے بعد اب تک 40000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش نقل مکانی کر چکے ہیں۔

Image caption ترکی کے نائب وزیر اعظم کی ٹویٹس جو انھوں نے تنقید کے بعد حذف کر دیں

29 اگست کو ترکی کے نائب وزیر اعظم محمت سمسیک نے چار تصاویر ٹویٹ کیں جن میں انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مصائب کا ادراک کریں۔

ان کی ٹویٹ کو 1600 سے زیادہ دفعہ شیئر کیا گیا اور 1200 لوگوں نے اسے 'لائک' کیا لیکن ساتھ ساتھ انھیں ان تصاویر کی صداقت کے بارے میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مسلسل تنقید کی وجہ سے تین دن بعد انھوں نے ٹویٹ حذف کر دی۔

ان کی ٹویٹ میں شامل تصاویر میں سے ایک تصویر کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مئی 2008 میں آنے والے سمندری طوفان نرگس کی تصاویر ہیں جبکہ ایک اور تصویر بی بی سی کی تحقیق کے مطابق جون 2003 میں انڈونیشیا میں لی گئی تھی۔

محمت سمسیک شیئر کی گئی تیسری تصویر 1994 میں افریقی ملک روانڈا میں لی گئی تھی۔

ان حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر سوشل میڈیا پر سخت بحث جاری ہے اور دونوں فریقین اپنی برتری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جن میں سے اکثر تصاویر قطعی غلط ہیں۔

مجھے بھیجے جانے والی ایک تصویر جس میں اسلحے سے لیس روہنگیا مسلمانوں کو دکھایا گیا تھا وہ تصویر درحقیقت 1971 میں بنگلہ دیش کے آزادی کی جنگ لڑنے والے رضاکاروں کی تھی۔

اس سال جب اقوام متحدہ کی نمائندہ ٹیم نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے تحقیق کی تو اپنی رپورٹ میں انھوں نے اپنی لی ہوئی تصاویر کے علاوہ کسی اور ذرائع کی تصویریں استعمال نہیں کی کیونکہ ان تصاویر کی تصدیق کرنا نہایت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 'دونوں فریقین کی جانب سے سفاکی کی مظاہرہ کیا گیا' ہے لیکن انھوں نے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی نوعیت کہیں زیادہ سنگین ہے۔

لیکن رخائن میں غیر جانبدار ذرائع کو آزادانہ رسائی نہ ہونے کی وجہ سے حالات کی درست تصویر لینا بہت مشکل ہے اور سوشل میڈیا پر جاری پروپاگینڈا سے اس مسئلے کا حل ملنے کے بجائے معاملہ مزید خراب ہو سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں