ٹرمپ نوجوان تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کا پروگرام ختم کررہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یاد رہے کہ ملک میں ریپلکن پارٹی کی قیادت کے کچھ حصے اور کاروباری شخصیات بھی اس پروگرام کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے والے ایک پروگرام کو ختم کر دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کانگریس کو چھ ماہ کی مدت دیں گے کہ اس پروگرام کا متبادل تیار کیا جائے۔ اس فیصلے کو ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس پروگرام کے لیے امریکی حکام میں بہت حمایت ہے اسی لیے اس کے متبادل کو تیار کرنا اہم ہے۔

توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات کا اعلان منگل کے روز کریں گے۔

ڈاکا نامی اس پروگرام کو صدر اوباما نے متعارف کروایا تھا اور اس پروگرام کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو ملک بدری سے بچایا جاتا ہے اور انھوں پڑھنے اور کام کرنے کے پرمٹ دیے جاتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے پولیٹکو کے مطابق وائٹ ہاؤس نے سپیکر پال رائن کو صدر کے فیصلے کے بارے میں اتوار کی صبح بتایا۔

ٹرمپ ’ڈریمر‘ پروگرام منسوخ نہ کریں: پال رائن

گذشتہ ہفتے پال رائن نے صدر کو کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو ختم نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو ختم کرنے سے بہت سے نوجوان غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ ملک میں ریپلکن پارٹی کی قیادت کے کچھ حصے اور کاروباری شخصیات بھی اس پروگرام کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کو فوراً ختم کر دیں گے۔ تاہم اس کے بعد سے انھوں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اس موضوع کو ’انتہائی مشکل‘ پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ان ’بہترین بچوں‘ کے ساتھ رحم والا سلوک کریں گے۔

کانگریس کو اس پروگرام کا متبادل تیار کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینا اس رویے کی عکاسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بہت سی امریکی کمپنیوں جیسے کہ مائیکروسافٹ اور گوگل نے اس پروگرام کو جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔

ڈاکا پروگرام سے تقریباً 750000 نوجوانوں کو امریکہ میں رہنے کی عبوری اجازی دی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے درخواست کرزار کی عمر 30 سال سے کم ہونا ضروری ہے۔

درخواست گزار کو ایف بی آئی کی چھان بین سے بھی گزرنا پڑتا ہے، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا ضروری ہے اور انھیں یا تو زیرِ تعلیم ہونا چاہیے یا حال ہی میں تعلیم مکمل کی ہونی چاہیے یا بھر حال ہی میں باعزت طور پر فوجی سروس مکمل کی ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ اس پروگرام کے تحت زیادہ تر درخواست گزاروں کا تعلق میکسکو یا دیگر جنوبی امریکہ کے ممالک سے ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں