جوہری حملے میں کیسے بچا جا سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان نے تین ستمبر کو ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا۔ اس تجربے کا دھماکہ اتنا زور تھا کہ علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جتنے چاہے اتنے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔

’شمالی کوریا ایک اور میزائل تجربے کی تیاری کر رہا ہے‘

بیشتر شدت پسند تنظیمیں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تلاش میں ہیں۔ ویسے تو یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی ایٹم بم سے حملہ کرے لیکن اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہوگا؟ کیا ہم ایٹم بم کے حملے کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں؟

ایٹم بم سے ہیروشما اور ناگاساکی پر ہونے والے حملوں میں تباہی دنیا بھول نہیں سکی ہے۔ چیرنوبیل جیسے حادثے کی یادیں بھی مٹ نہیں سکی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے شاید وہ یادیں دھندلی پڑتی جا رہی ہیں۔ ان حادثوں کاشکار ہونے والے افراد آج بھی تکلیفوں سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکے ہیں۔

’امریکی فوج شمالی کوریا سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بنکر

برطانیہ میں پنڈار کے نام سے ایک محفوظ بنکر بنا ہوا ہے جہاں کسی جوہری حملے کی صورت میں فوج اور حکومت کے اہلکار اپنی جان بچا سکیں گے۔ جوہری جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد بھی یہاں سے تمام سرکاری کام کیے جاتے رہیں گے۔ لیکن کیا شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی حکومتوں نے کوئی تیاری کی ہے؟

اگرچہ اس بات کے امکان کم ہی ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوگا لیکن ان امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کل شدت پسند تنظیموں کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ اس لیے شہریوں کی حفاظت کا بھی مکمل انتظام ضروری ہے۔

شمالی کوریا کے جوہری عزائم پر چین کو شدید تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Alex Wellerstein

جوہری تابکاری سے بچاؤ کیسے ہو

امریکہ کے سٹیوینز انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ایلیکس والرسٹائن نے ایک نیوک میپ بنایا تھا جس میں گوگل میپ کی طرح نقشے کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایٹم بم سے حملہ ہونے پر وہاں کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایک اور پراجیکٹ میں لوگوں کو یہ بتایا جائے گا کہ وہ خود کی حفاظت کیسے کریں۔ سب سے بنیادی مشورہ تو یہ ہی ہے کہ حملے کی صورت میں لوگ گھروں کے اندر ہی رہیں۔ لیکن جوہری حملے میں پورا ماحول ہی متاثر ہوتا ہے۔ گھر میں رہنے سے اتنا ضرور ہوگا کہ آپ خود کو تھوڑے لمبے عرصے تک جوہری تابکاری کے اثرات سے بچا پائیں گے۔

ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کیسے ہوا؟

شمالی کوریا خود کو جوہری ہتھیاروں سے لیس بتا رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک میزائیل تجربے کر رہا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائیل موجود ہیں جو امریکی شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اس کے ان دعوؤں نے امریکہ کی نیند اڑا دی ہے۔ شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک بھی فکرمند ہیں۔ جاپان کے کئی گاؤں میں تو مشقوں کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہریوں کی تربیت

شمالی کوریا کے نشانے پر امریکہ کا گوآم جزیرہ ہے۔ لہذا یہاں بھی شہریوں کی تربیت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس درمیان امریکی وزارت داخلہ نے اپنی ویب سائٹ کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے ایک حصے میں نیوکلئیر دھماکے کے بارے میں معلومات دی گئی ے۔

ٹرمپ کی تنقید، ایٹم بم سے کئی گنا طاقتور ہائیڈروجن بم کا تجربہ

تمام ممالک اپنے بڑے رہنماؤں کی حفاظت کی تیاری کرتے ہیں۔ عام لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد سرد جنگ کے دور میں عام شہریوں کی حفاظت پر بہت زور دیا جاتا تھا۔ لوگوں کو جنگ کے حالات میں اپنی حفاظت کرنے کی تربیت کی جاتی تھی لیکن سرد جنگ ختم ہونے کے ساتھ اس بارے میں زیادہ توجہ نہیں جا رہی ہے۔ ایلیکس وارلسٹائن اور ان کے ساتھی اب یہی کام کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنیادی تیاری

پورٹسمتھ اور ساؤتھ ہمپٹن برطانیہ کے دو ایسے شہر ہیں جہاں ایٹمی آبدوز کے لیے بندرگائیں ہیں۔ پورٹسمتھ میں ایک پرانا ایئر ریڈ سائرن لگا ہے۔ اسے اکثر چیک کیا جاتا ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے پورے برطانیہ میں سائرن کا سسٹم ہے۔

دنیا بھر میں کئی جگہ نیوکلئیر شیلٹر ہاؤس بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا استعمال اب دیگر مقاصد کے لیے ہو رہا ہے۔ ریڈ کراس جیسے ادارے ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوہری حملہ ہوتا ہے تو کوئی بھی ادارہ فوری طور پر کوئی مدد نہیں کر پائے گا۔ کیوں کہ جوہری حملے ہماری تیاری سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔

شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ذہنی تیاری

وارلسٹائن کا خیال ہے کہ اگر لوگوں کو اس طرح کے حملوں کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار کر لیا جائے تو بھاری نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ حالات سے بالکل انجان ہونے کی صورت میں نقصان زیادہ ہوگا۔

شمالی کوریا کی امریکہ کو دھمکیوں کے بعد وہاں شہریوں کے لیے کچھ اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی تیزی سے بڑھتا ہوا آ گ کا گولا یا تیز روشنی نظر آئے تو اس کی طرف نہ دیکھیں۔ یہ بینائی چھین سکتی ہے۔ جتنا جلدی ہو سکے خود کو کسی بند جگہ میں قید کر لیں۔ تابکاری میلوں دور تک پھیلتی ہے۔ اس لیے زیادہ دور جانے کے بجائے جہاں ہیں وہیں اپنے لیے کوئی بند جگہ تلاش کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جوہری تابکاری آپ کے کپڑوں تک میں اتر جائے گی۔ اپنے کپڑے جلد از جلد بدل ڈالیں اور جسم کو اچھی طرح صاف کر لیں۔ اتارے گئے کپڑوں کو کسی پلاسٹک کے بیگ میں بند کر کے انسانوں اور جانوروں سے جتنا دور ہو سکے اتنا دور رکھیں۔ جسم دھوتے وقت اسے رگڑنا نہیں چاہیے۔ اپنے کان، ناک اور آنکھوں کو بہت نازک طریقے سے کسی صاف کپڑے یا ٹشو پیپر سے صاف کریں۔

امریکہ میں جاری یہ گائیڈ لائنز پاکستان اور انڈیا کے لیے بھی کام کی ہیں۔

اسی بارے میں