شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں بے سود ہیں: پوتن

پوتن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ کی جانب شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کی تجویز مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا کے مسئلہ کا سفارتی حل تلاش نہیں کیا گیا تو یہ ایک ’عالمی آفت‘ بن سکتا ہے۔

صدر پوتن کا بیان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے معاملے پر ماسکو اور بیجنگ کا موقف امریکہ اور اُس کے اتحادی سے مختلف ہے۔

شمالی کوریا نے چند روز قبل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے ذریعے لانچ کرنے والے ہائیڈروجن بم بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

٭ شمالی کوریا جنگ کے لیے بیتاب ہے: امریکہ

٭ ’شمالی کوریا ایک اور میزائل تجربے کی تیاری کر رہا ہے‘

٭ جدید ترین ہائیڈروجن بم تیار کر لیا : شمالی کوریا

امریکہ نے شمالی کوریا کے اس دعوے کے بعد'اس کے خلاف سخت ترین' پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کے حالیہ دعوے کے بعد بین الاقوامی برادی کی جانب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری لینا ضروری ہے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن برطانیہ اور فرانس نے شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جن میں تیل کی خریداری روکنا شامل ہے۔

صدر پوتن نے واضح کیا ہے کہ روس اس طرح کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرے گا جبکہ سیاسی اور اقتصادی طور پر شمالی کوریا کے اتحادی ملک چین نے بھی کہا ہے کہ وہ پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کے خلاف مزاحمت کرے گا۔

چین میں ایک بین الاقوامی اجلاس سے خطاب میں صدر پوتن نے شمالی کوریا کے 'اشتعال انگیز' اقدام کی مذمت کی لیکن نے انھوں نے خبردار کیا کہ اس مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جائے نہیں تو دیگر اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

صدر پوتن نے کہا کہ 'ان حالات میں کسی بھی قسم کی پابندیاں غیر ضروری اور غیر موثر ہوں ہو گی۔ ان سے صرف عالمی کشیدگی اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔‘

شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کی اس دوڑ میں شامل ہونے کے بعد عالمی طاقتیں اس کے ردعمل کے طور پر اقدامات کر رہی ہیں جس سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں امریکہ کے صدر نےجنوبی کوریا کو اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے کی اصولی منظوری دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا ہےامریکہ کبھی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ تاہم ہمارے ملک کا صبر لامحدود نہیں ہے۔

امریکی مندوب نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنے اقدامات سے دکھا دیا ہے کہ وہ 'جنگ کے لیے بیتاب ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل سلامتی کونسل نے اگست میں شمالی کوریا پر پابندیاں عاید کی تھیں

انھوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ شمالی کوریا کے حالیہ ایٹمی تجربے کے خلاف 'سخت ترین قدم اٹھائے۔‘

نکی ہیلی نے کہا کہ صرف سخت ترین پابندیاں ہی اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کروا سکتی ہیں۔

امریکہ اس ضمن میں ایک مسودہ پیش کرے گا جس پر اگلے سوموار کو ووٹنگ ہو گی۔

گو کہ انھوں نے واضح نہیں کیا کہ سخت ترین اقدامات کیا ہو سکتے ہیں لیکن سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے ممکنہ طور اُس کی تیل کی صنعت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے

جوہری حملے میں کیسے بچا جا سکتا ہے

دوسری جانب جنوبی کوریا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنے میزائلوں پر وزن کی خود عائد کردہ پابندی ختم کرنے جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی ہے۔ فی الوقت جنوبی کوریا کے میزائلوں کا حتمی وزن 500 کلوگرام ہے۔

گذشتہ روز جنوبی کوریا نے فوجی مشقیں کیں جن میں شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے مقام پر حملے کی مشق بھی شامل تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں