’ایئرلائن مخصوص سائز کا لباس پہننے کا حکم نہیں دے سکتی‘

Aeroflot stewardesses in Paris, 16 Jun 15 تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ قومی فضائی کمپنی اپنے ملازمین کو مخصوص ناپ کا یونیفارم پہننے کی ہدایت نہیں دے سکتی ہے۔

فضائی کمپنی ایئروفلوٹ کی دو خواتین فضائی میزبانوں نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ انھیں زیادہ وزن کی وجہ سے غیر منافع بخش روٹس پر منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایئر لائن کی جانب سے امتیازی رویہ برتنے کی شکایت کی تھی۔

ایئروفلوٹ نے اپنے فضائی عملے سے کہا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سائز 48 سے بڑے کپڑے نہیں پہن سکتی ہیں۔

گو کہ عدالت نے اپنے حکم میں فضائی کمپنی کی اس پالیسی کو واضح طور پر امتیازی قرار نہیں دیا ہے لیکن کمپنی کو تنخواہوں میں کمی اور نقصانات کے سبب زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا انھیں گائیڈ لائنز تبدیل کرنی چاہیے یا نہیں۔

ایئرلائن کی ترجمان نے روس کی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ عدالت نے اُن کے اس اقدام کو امتیازی قرار نہیں دیا ہے۔

عدالت میں درخواست دائر کرنے والی ایک میزبان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'اُن کے کپڑوں کا سائز کا اُن کی کارکردگی پر اثرانداز نہیں ہوتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ کپڑوں کا سائز پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے وہ صحیح انداز سے کیا جائے اور یہ دوسرے درجے کی بات ہے کہ آپ نظر کیسے آتے ہیں۔‘

عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ایئر لائن نے کہا کہ زیادہ وزن والی فضائی میزبان ہنگامی صورتحال کے لیے زیادہ موضوع نہیں ہیں کیونکہ ان حالات میں فوری ایکشن کرنا ہوتا ہے۔

ایئر لائن کا کہنا تھا کہ زیادہ وزن سے ایندھن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ایئرلائن میں ملازمت کے لیے درخواست دینے کے لیے قد، وزن اور کپڑوں کے سائز کے بارے میں معلومات دینا ضروری ہوتا ہے۔

اسی بارے میں