پاکستان پر باہر سے تنقید نہیں ہونی چاہیے: برطانوی حزب اختلاف کے رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ کی اپوزیشن لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور دوسرے ممالک کو اس پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

’پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار‘

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

مسٹر ٹرمپ کے مطابق 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔

پاکستان کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟ لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ 'پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور اس پر باہر سے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔'

تو کیا پاکستان بحیثت ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ کردار ادا کر رہا ہے جو اسے ادا کرنا چاہیے؟اس پر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ 'تمام ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔'

مسٹر کوربن کے بقول صدر ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی نئی پالیسی افغانستان کے بارے میں ان کی ناکام پالیسی کا تسلسل ہے۔ ’میں اس کی حمایت نہیں کرتا، افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات ہیں۔'

جیریمی کوربن ماضی میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے حامی رہے ہیں، اس سوال کے جواب میں کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کو روکنے میں آنگ سان سوچی کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے تو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ مسٹر کوربن کا کہنا تھا کہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کو روکنے میں آنگ سان سوچی کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے

'میرا ان کے لیے پیغام احترام کا ہے، اور یہ کہ آپ جب گھر میں نظر بند تھیں تو ہم نے آپ کی حمایت میں مارچ کیے اور انسانی حقوق کے لیے آپ کی جدوجہد کی حمایت کی، تو آپ مہربانی کریں اور روہنگیا عوام کے انسانی حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھیں۔‘

’اور یہ یقینی بنائیں کہ میانمار میں ان کو شہریت کے پورے حقوق حاصل ہوں، انہیں اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھروں سے نہ نکالا جائے۔'

برطانیہ میں مانچسٹر اور لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم اور تیزاب پھینکنے جیسے واقعات میں اضافے کے بعد برطانوی مسلمانوں میں خوف کا احساس بڑھا ہے۔ ان واقعات کی وجوہات اور تدارک سے متعلق ان کا کا کہنا تھا ’نفرت پر مبنی جرائم چاہے مسلمانوں کے خلاف ہوں، یہودیوں کے خلاف ہوں یا کسی بھی مذہب کے خلاف ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم سب ایک کمیونٹی کی حیثیت سے ان حملوں کے خلاف متحد ہیں اور یہ حملے کسی مخصوص کمیونٹی پر نہیں بلکہ ہم سب پر کیے گئے ہیں۔'

اسی بارے میں