وہ باپ جس نے دولتِ اسلامیہ سےاپنی بچیوں کو بچایا

اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے آرتر ماگومادوف ان لمحوں کو یاد کر رہے تھے جب انکی دنیا بکھر گئی۔

’میری بیوی کے بھائی اور چچا میرے پاس آئے اور بتایا کہ میری بیوی چلی گئی ہے اور بچوں کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔ ‘

آرتر کی بیوی انہیں بتائے بغیر ان کی 10 سالہ بیٹی فاطمہ اور تین سالہ مزارت کو لے کر ترکی چلی گئی۔ جس کے بعد وہ وہاں سے شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو گئیں۔

دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

داعش سے بچنے کیلیے برطانوی جنگجو کی خودکشی

آرتر بتاتے ہیں کہ ’اس کے چچا اور بھائی خوش لگ رہے تھے۔ لیکن میں نے ان سے کہا ’یہ سب آنسوؤں پر ختم ہوگا اور اسے کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ میری اجازت کے بغیر میرے بچوں کو ساتھ لے جائے۔‘

داغستان میں مقیم آرتر کی اہلیہ نے شدت پسند اسلام کو اپناتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کی خود ساختہ خلافت میں بسنے کے لیے شام تک سفر کیا۔

وہ تنہا نہیں ہیں روس کا یہ حصہ دولتِ اسلامیہ کی بھرتیوں کے لیے کافی اہم ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک داغستان کے 1200 افراد لڑائی میں شامل ہونے کے لیے شام جا چکے ہیں۔

آرتر نے اپنی بیٹیوں کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے قرض لیا اور استنبول روانہ ہوئے۔ یہاں ایک شخص ان کو خفیہ طور پر شام لے جانے کے انتظامات کیے منتظر تھا۔

’یہاں سے ہم جنوبی ترکی غازیان ٹیپ گئے۔ یہاں ایک چیچن خاندان اور تین دیگر افراد میرے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔‘

’ہم نے پانچ مرتبہ گاڑیاں تبدیل کیں جس کے بعد ترکی اور شام کی سرحد پر پہنچے۔ یہاں سفر کا انتظام کرنے والا ایک پورا مافیا تھا۔‘

’سرحد پار کرنے کے بعد آپ کو 200 میٹر تک بھاگنا ہوتا ہے، بہت تیز اپنے سارے سامان کے ساتھ اس سے پہلے کہ سرحدی محافظ آپ پر گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ جب میں بھاگ رہا تھا تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔‘

Image caption داغستان روس کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے

’جب میں دولتِ اسلامیہ کی حدود میں پہنچا تو مسلح افراد ایک پِک اپ ٹرک کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔ وہ ہمیں جرابلس لے گئے۔‘

یہاں پہچنے تک انہیں علم ہو چکا تھا کہ ان کا خاندان کہاں ہے۔ انہیں ان کے برادرِ نسبتی کی جانب سے پیغام ملا تھا۔ اس کی بیوی بھی دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوچکی تھیں۔

اس نے مجھے لکھا ’میں ایک صاف گو انسان ہوں چونکہ تمہارے ساتھ صحیح نہیں ہوا اس لیے میں تم سے رابطہ کر رہا ہوں۔‘

رشتہ داروں نے بتایا کہ آرتر کی بیوی اور بچے طبقہ میں ہیں اس لیے وہ انہیں ملنے وہاں چلے گئے۔

’میرے بچے مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ فاطمہ نے سیاہ کپڑے اور حجاب پہن رکھا تھا۔ مزارت چونکہ چھوٹی تھی اس لیے ان نے پہلے جیسے ہی کپڑے پہن رکھے تھے۔‘

’جب میں وہاں پہنچا تو میری بیوی وہاں نہیں تھیں۔ وہ واپس آئی مجھے دیکھا تو سمجھ گئی کہ وہ مشکل میں پڑ گئی ہے۔‘

ایک شرعی عدالت نے بچوں کو آرتر کے حوالے کر دیا۔ لیکن انہیں خلافت کے علاقے سے باہر جانے کے اجازت نہیں تھی۔

گھر لوٹنے کے لیے انہیں یہاں سے فرار ہونا تھا۔ ایک رات وہ ترکی کی سرحد کے لیے نکل پڑے۔

’ہم ریلوے لائن کے ساتھ 70 میٹر تک رینگتے رہے۔ میں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو بانہوں میں اٹھایا اور دوسری بیٹی سے کہا بھاگو۔‘

’میرا پاجامہ کسی تار میں الجھ گیا اور فاطمہ کے کپڑے بھے۔ مزارات رونے لگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرمیوں میں دولتِ اسلامیہ نے طبقہ کا کنٹرول کھو دیا تھا

’ہم سرحد عبور کرنے ہی والے تھے کہ میں کسی چیز سے ٹکرا کر گر گیا۔ میں تین مرتبہ گرا۔ لیکن جانے مجھ میں اتنی ہمت کیسے آئی کہ میں بھاگتا رہا۔ ‘

ترک سرحدی محافظ 50 میٹر دور تھے، انھوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ ہم نے ایک نالے میں چھلانگ لگا دی اور 20 منٹ تک وہاں چھپے رہے۔ گولیاں ہمارے سروں کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔‘

ہم لمبی گھاس میں چھپ کر وہاں سے نکل آئے۔ مجھے احساس ہوا کہ ہم نے کر دکھایا۔ مجھے چاند دکھائی دے رہا تھا اور مکئی کے کھیت بھی۔ یہ سب جنت جیسا لگ رہا تھا۔‘

آرتر اور ان کی بیٹیاں استنبول تک پہنچ گئے جہاں روسی قونصلیٹ نے گھر لوٹنے میں ان کی مدد کی۔

لیکن ان کی اہلیہ کا کیا ہوا۔

’میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ ہم رابطے میں نہیں ہیں۔ اس نے اپنا راستہ چن لیا اب اسے وہیں رہنا ہوگا۔‘

آرتر کی والدہ نے بتایا گاؤں کے دوسرے لوگ بھی خلافت کے لیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا’ چار سے پانچ عورتیں وہاں گئی ہیں اور سب پچھتا رہی ہیں۔ میں ان والدین سے ملتی ہوں تو وہ بتاتے ہیں کہ وہاں ان کی زندگی اچھی نہیں ہے۔‘

Image caption داغستان میں لگے اس بورڈ پر تحریر ہے کہ ’ہم اپنے سیارے کو دہشت گردی سے بچائیں گے، دہشت گردی سے انکار‘

شام جانے کے پیچھے مقاصد

داغستان روس کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں بے روز گاری بہت زیادہ اور اجرتیں بہت ہی کم ہیں۔ یہ چیزیں اس علاقے کو شدت پسندی کے لیے زرخیر علاقہ بنا دیتی ہیں۔

مرات بھی ایک داغستانی ہیں جو دولتِ اسلامیہ سے بھا کر آئے ہیں اور اب چھپے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انہیں ایک شدت پسند عالم نے انٹرنیٹ پر ورغلایا تھا۔ ان کی باتوں نے ان کے ذہن پر اتنا اثر کیا کہ وہ اپنی حاملہ بیوی کو چھوڑ کر جہاد کرنے نکل پڑے۔

مرات کے بقول ’عالم نے کئی جذباتی ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں یہ کہا جاتا تھا کہ شامی لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔‘

’وہ کہتے تھے کہ آپ مسلمان گھروں میں کیوں بیٹھے ہو۔ آؤ اور مدد کرو۔ اس لیے میں نے وہاں جا کر ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔‘

’میری بیوی اس خیال کے خلاف تھی۔ اس لیے میں نے اسے سچائی نہیں بتائی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں بس کچھ ہی عرصے کے لیے وہاں جا رہا ہوں لیکن میں نے وہاں جا کر اسے فون کیا کہ میں اب گھر واپس نہیں آؤں گا۔ وہ رونے لگی۔ وہ بہت زیادہ جذباتی ہو گئی۔‘

’مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کر دی ہے۔ مجھے سمجھ آگئی کہ یہ مقدس جنگ نہیں ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کا ایک گروہ دوسرے سے لڑ رہا ہے۔‘

کچھ داغستانیوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی حکام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نادانستہ طور پر لوگوں کو ملک سے باہر بھیج رہی ہے۔

Image caption داغستان کے نوجوان شدت پسندی کی جانب راغب ہو رہے ہیں

شماخل نامی قصبے میں شمس الدین میگومیدوف نے بتایا کہ ایک مقامی مسجد جہاں انھوں نے بھی نماز ادا کی تھی اسے پولیس نے بند کروا دیا۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ اس مسجد سے پانچ چھ لوگ شام گئے لیکن ان کا اصرار تھا کہ مسجد کو بند کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔

ان کا کہنا تھا ’اگر نوجوان یہاں رہیں گے تو ہم ان پر نظر رکھ سکتے ہیں لیکن مسجد بند کر دینے سے یہ نوجوان یہاں سے جا رہے ہیں۔ کون جانے وہ کہاں جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟‘

وہاں اپنے گھر کے صحن میں آرتر ماگومادوف کی چھوٹی بیٹی مزارت پورچ میں بیٹھی ہمیں دیکھ رہی ہے۔ میں نے پوچھا کہ ماں کے ساتھ شام جانے اور والد کے ہاتھوں بچائے جانے کے اس تجربے سے اس کے بچے کتنے متاثر ہوئے؟

آرتر نے بتایا کہ مزارات نے ایک دن مجھ سے پوچھا ’سب کی مائیں ہیں میری کیوں نہیں ہے؟‘

’لیکن میں جانتا ہوں کہ بچیوں کا سوشل میڈیا پر اپنی ماں سے رابطہ ہے، میں نے انہیں اس سے بات کرنے کو منع نہیں کیا ، کیونکہ آخر کو وہ ان کی ماں ہے اور وہ اس کی کمی محسوس کرتی ہیں۔ ‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں