میانمار روہنگیا مسلمانوں کو واپس لے: حسینہ واجد

روہنگیا مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ ہفتوں میں پونے چار لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں

بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میانمار کی حکومت کو اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روہنگیا مسلمانوں پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔

انھوں نے برمی رہنما آنگ سان سو چی کو ایک ذاتی پیغام میں لکھا ہے کہ مینانمار کو پناہ گزینوں کو واپس لینا چاہیے کیونکہ وہ ان کے 'اپنے لوگ' ہیں۔

انھوں نے حالیہ تشدد کی لہر میں روہنگیا جنگجوؤں کے کردار کی بھی مذمت کی۔

’روہنگیا کے خلاف آپریشن ’نسل کشی کی واضح مثال‘ ہے‘

میانمار: روہنگیا مسلمان ’بارودی سرنگوں سے معذور‘

میانمار کے رخائن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟

حالیہ ہفتوں میں تین لاکھ 70 ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین سرحد عبور کر بنگلہ دیش آئے ہیں۔

شیخ حسینہ نے منگل کے روز میانمارکی سرحد کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ بھی کیا۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا: 'انھیں اسے روکنا چاہیے، ساتھ ہی ساتھ میانمار کی حکومت کو تحمل سے اس صورتحال سے نمٹنا چاہیے، انھیں فوج یا اپنی ایجنسیوں کو اجازت نہیں دینی چاہیے کہ عام لوگوں پر حملہ کریں۔ بچوں، خواتین اور معصوم لوگوں کا کیا قصور ہے۔ وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

'ہمیں انھیں پناہ دینی ہے تاکہ وہ خوراک اور ادویات حاصل کر سکیں، جب تک وہ انھیں واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ انسان ہیں ہم انھیں واپس نہیں دھکیل سکتے۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہم انسان ہیں۔'

بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم نے کہا: 'ہم نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی ہے کہ میانمار کی حکومت کو اپنے تمام شہریوں کو واپس اپنے ملک لے جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیمیں میانمار پر ضابطے کے مطابق کارروائی کرنے اور انھیں واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔

'میرا ذاتی پیغام بہت واضح ہے کہ انھیں انسانی بنیادوں پر صورت حال کو سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ، بچے اور خواتین مشکل میں ہیں۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ان لوگوں کا میانمار سے تعلق ہے اور یہ وہاں مقیم رہے ہیں۔ یہ کیسے اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے شہری نہیں ہیں۔'

Image caption بی بی سی کی ٹیم نے دیکھا کہ ایک گاؤں کو تازہ تازہ جلایا گیا ہے

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہی ہے اور اس بات کی تردید کرتی ہے کہ انھوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم وہاں سے آنے والوں میں بہت سے پناہ گزین کہتے ہیں کہ وہ میانمار کی فوج کے تشدد اور دیہات جلانے کے واقعات کی وجہ سے بھاگ کر آئے ہیں۔

بی بی سی نے ایک روہنگیا افراد سے بات کی ہے جو باردوی سرنگوں کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیشی فوج کے مطابق میانمار کی فوج نے حال ہی میں نئی بارودی سرنگیں نصب کی ہیں۔ تاہم میانمار کے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو اس بحران پر غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا ہے، لیکن چین نے کہا ہے کہ وہ میانمار کے امن اور استحکام کے قیام کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں