عدم تشدد کے حامی مسلمانوں کے دشمن کیوں؟

بودھ راہب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدھ مذہب میں عدم تشدد کو بہت اہمیت حاصل ہے

دوسرے مذاہب کے مقابلے عدم تشدد کا اصول بدھ مذہب میں زیادہ اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ بدھ راہب کسی کو نہ مارنے کا درس لیتے ہیں۔

اسی لیے یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ آخر یہ بدھ راہب مسلمانوں کے خلاف نفرت کیوں پھیلا رہے ہیں اور پرتشدد بھیڑ کا حصہ بن رہے ہیں؟

یہ سب میانمار اور سری لنکا میں ہو رہا ہے جو ایک دوسرے سے تقریبا ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔ ان دونوں ممالک میں بسنے والے مسلمان عام طور پر پرامن زندگی بسر کرتے ہیں اور وہاں کی اقلیتیں ہیں۔

٭ بدھ مت کا تاریک پہلو

٭ روہنگیا کے دشمن برما کے بودھ 'بن لادن'

٭ مسلمانوں پر حملوں کے الزام میں بودھ رہنما گرفتار

ان میں سے کسی ملک کو اسلامی انتہا پسندی کا سامنا نہیں ہے۔ ایسے پس منظر میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے تشویش کا باعث ہیں۔

کئی سال پہلے، سری لنکا میں جانوروں کا ذبیحہ تنازع کا شکار ہو گیا تھا۔ بدھ مت کی تنظیم بودو بالا سینا نے بدھ راہبوں کی رہنمائی میں ریلیاں نکالیں جس میں مسلمانوں کے خلاف براہ راست کارروائی اور ان کے کاروباری اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔

میانمار کا 'بن لادن'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برما اور سری لنکا میں بدھ مت کے پیروکار مسلمانوں کے خلاف ہیں

میانمار کی حالت تشویشناک ہے. یہاں 969 نامی ایک تنظیم مبینہ طور پر مذہبی منافرت پھیلا رہی ہے۔

اس تنظیم کی قیادت اسن براتھو نام کے ایک بدھ راہب کر رہے ہیں۔ مذہبی منافرت پھیلانے کے سلسلے میں انھیں سنہ 2003 میں جیل ہوئی تھی اور سنہ 2012 میں وہ رہا ہوئے تھے۔ وہ خود کو میانمار کا اسامہ بن لادن کہتے ہیں۔

مارچ سنہ 2013 میں، میکٹیلا قصبے میں ایک مشتعل ہجوم نے مسلمانوں پرحملہ کیا تھا جس میں 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تشدد کی ابتدا سونے کی ایک دکان سے ہوئی تھی۔

دونوں ممالک میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں اقتصادی وسائل کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہاں اکثریت کے مفادات کے لیے مذہبی اقلیتوں کی قربانی دی گئی تھی۔

سنہ 2013 میں رنگون کے شمال میں واقع اوکن میں ایک مسلمان لڑکی کی سائیکل ایک بدھ راہب سے ٹکرا گئی تھی۔ اس کے بعد سخت گیر بدھوں نے مساجد پر حملے کر دیے تقریبا 70 گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ اس میں ایک شخص ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں جگہ کے مسلمانوں کے کاروبار کو پہلے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے

بدھ مت کی تعلیم میں، جارحانہ خیالات کو نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے نجات کے کئی طریقے بتائے گئے ہیں۔ دھیان (استغراق) سے برے خیالات کو ختم کیا جا سکتا ہے اور رحم کے جذبے کو بیدار کیا جا سکتا ہے۔

مسیحیت میں بھی کہا گیا ہے 'اپنے دشمنوں سے پیار کرو' اور 'جو تکلیف دے اس کے لیے دعا کرو۔'

ہر مذہب جلدی یا تاخیر سے حکومت اور طاقت سے رشتہ جوڑ لیتا ہے۔ بدھ راہبوں کی نظر بادشاہ پر ہوتی ہے جبکہ بادشاہ اپنے جواز کے لیے ان کی طرف دیکھتا ہے۔

جہادی مسیحی ہوں یا اسلامی انتہا پسند یا خود آزادی کی حمایت کرنے والے ممالک کے رہنما سب کے سب اچھے کاموں کے لیے تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔ بدھ حکمراں اور راہب اس سے مستثنی نہیں۔

مذہب کے نام پر تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ دنوں تقریبا تین لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا

میانمار کے حکمراں بدھ مت کے اصولوں کی بنیاد پر جنگ کو جائز قرار دیتے ہیں۔

جاپان میں بدھ مت کے بہت سے سمورائی پیروکار جین مت کو مانتے ہیں۔ وہ کئی معنوں میں تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ ایک شخص کے قتل کو بھی رحمدلی کا کام کہتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اسی قسم کے دلائل دیے گئے تھے۔

سری لنکا اور برما میں پیدا ہونے والی قوم پرست تحریکوں میں بودھ مت نے اہم کردار ادا کیا اور برطانوی سلطنت کو اکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی جو بعد میں پر تشدد ہو گئی۔ سنہ 1930 میں بدھ کے راہبوں نے چار انگریزوں کو قتل کردیا تھا۔

سنہ 1983 میں سری لنکا میں پیدا ہونے والی نسلی کشیدگی خانہ جنگی میں بدل گئی۔ تمل مخالف تشدد کے بعد علیحدگی پسند تملوں نے ملک کے شمال مشرق کی اکثریت سنہالی حکومت سے علیحدگی کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برما کے مسلمان کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے برما میں مسلم مخالف کارروائیوں کی مذمت کی ہے

اس وقت سری لنکن مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کمان تامل باغیوں نے سنبھال رکھی تھی۔ لیکن 2009 میں اس تشدد کے خاتمے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں کی اکثریت کو مسلم اقلیتوں کی شکل میں ایک نیا ہدف مل گیا ہے۔

برما میں، بدھ راہبوں نے فوجی حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے اپنا اخلاقی دبدبے کا استعمال کیا اور 2007 میں جمہوریت کا مطالبہ کیا۔ اس وقت پرامن مظاہروں میں بہت سے بدھ راہب ہلاک بھی ہوئے۔

آج کل بعض بدھ راہب اپنی اخلاقی قوت کا بالکل مختلف استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد کم ہو سکتی ہے لیکن ہزاروں ایسے بدھ راہب ہیں جو خود کو 'اینگری ینگ مین' کہتے ہیں۔

دونوں ملکوں میں حکمران جماعتوں اور بدھ راہبوں کے درمیان تعلقات اب بھی واضح نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں