ملائیشیا: کوالالمپور کے مدرسے میں آتشزدگی سے 24 افراد ہلاک

آگ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کوالالمپور کی ایک دینی درسگاہ میں آگ لگنے سے طلبہ اور اساتذہ سمیت 24 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مدرسہ 'تحفظِ دارالقرآن اتفاقیہ' میں آگ لگنے کا واقعہ صبح فجر سے پہلے پیش آیا۔

کوالالمپور شہر میں آتشزدگی اور امدادای کارروائیوں سے متعلق محکمے کے سربراہ خیرالدین درہمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ '23 طلبہ اور ایک وارڈن کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔'

ان کا کہنا تھا: 'میرے خیال سے گذشتہ 20 برسوں میں ملک میں یہ آگ لگنے کا بدترین واقعہ ہے۔ اتنے زیادہ افراد کی ہلاکت قابل افسوس ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی عمریں کیا تھیں۔ عام طور پر ایسے مدارس میں قرآن کے حفظ کے لیے پانچ سے 18 برس کی عمر تک کے بچے ہوتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کا یہ واقعہ گذشتہ دو عشروں میں سب سے بھیانک واقعہ ہوسکتا ہے۔

اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر جو تصویریں پوسٹ کی گئیں اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کی بالائی منزل کے کمرے، جس میں ممکنہ طور پر طلبہ سو رہے تھے، پوری طرح سے آگ کے شعلوں میں ہے۔

عمارت کے باہر طلبہ کے والدین کو بھی جمع ہوتے ہوئے دیکھا گيا۔

بہت سے ان طلبہ کو ہسپتال بھی پہنچایا گیا ہے جو آگ سے زخمی ہوئے یا پھر دھوئیں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مدرسہ 'تحفیظ دارالقران اتفاقیہ' میں صبح فجر سے پہلے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا

اس طرح کے دینی مدارس عام طور پر ذاتی ملکیت کے تحت چلتے ہیں جہاں کئی بار آگ لگنے کے واقعات ہونے پر حکام نے حفاظتی بندوبست کے حوالے سے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سنہ 2015 سے اب تک آگ لگنے کے ایسے 200 سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں۔

وزیر اعظم نجیب رزاق نے اس واقعے پر اپنی ایک ٹویٹ میں افسوس کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں