لندن میں زیرِ زمین ٹرین میں دھماکے سے متعدد افراد زخمی

لندن دھماکے تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@RRIGS

لندن کے علاقے فلہم میں زیرِ زمین ٹرین میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر یہ دیسی ساختہ بم صحیح طریقے سے پھٹتا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی تھی۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعے کی صبح جنوب مغربی لندن میں پارسنز گرین کے سٹیشن پر موجود ڈسٹرکٹ لائن کی ایک ٹرین پر ہوا۔

٭ لندن میں دہشت گردی کا واقعہ: تصاویر

طبی اہلکاروں کے مطابق اس دھماکے میں 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا ہے کہ اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر مارک روئیلی کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ایک دیسی ساختہ بم کی وجہ سے ہوا۔

سکیورٹی اُمور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دھماکے کا مقصد زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا تھا لیکن یہ بم صحیح طرح پھٹ نہیں سکا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماہرین کے مطابق بظاہر دیسی ساختہ بم پھٹا نہیں ہے بلکہ اس میں آگ لگی ہے لیکن اگر اس میں دھماکہ ہوتا تو بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہو سکتے تھے کیونکہ اسے اسی نیت سے تیار کیا گیا تھا۔

پولیس اور طبی کارکنوں کے مطابق انھیں صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر پارسنز گرین سٹیشن پر طلب کیا گیا اور لندن ایمبولینس سروس کے مطابق 18 افراد کو جائے وقوعہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں تھی۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں ٹرین کے فرش پر شاپنگ بیگ کے اندر ایک سفید بالٹی میں لگی آگ دیکھی جا سکتی ہے، تاہم بظاہر ریل کے ڈبے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال وہ یہ نہیں بتا سکتی کہ آگ کس وجہ سے لگی۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ انھوں نے کم از کم ایک مسافر کے چہرے پر زخم دیکھے ہیں جبکہ واقعے کے بعد لوگوں کو افراتفری کے عالم میں ٹرین سے اترتے بھی دیکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لندن ایمبولنس سروس نے جائے وقوعہ پر گاڑیاں بھیج دی ہیں

اس ٹرین کے ایک مسافر کرس ولڈش نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ انھوں نے ایک بالٹی دیکھی جس سے کچھ شعلے بلند ہو رہے تھے اور وہ بوگی کے پچھلی طرف دروازے کے قریب پڑی تھی۔

ایک اور مسافر لیوک کا کہنا تھا کہ 'دھماکہ زوردار تھا اور اس وقت ہوا جب ٹرین سٹیشن پر رک رہی تھی۔ جلنے کی واضح بو تھی اور لوگ باہر نکلنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھ رہے تھے۔'

بی بی سی کی لندن کی نامہ نگار رز لطیف اس وقت پارسنز گرین سٹیشن پر موجود تھیں۔ انھوں نے کہا: 'جب لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی تو وہ افراتفری کے عالم میں ٹرین سے دور بھاگے۔

'وہاں سے بھاگتے ہوئے لوگوں کو خراشیں اور چوٹیں آئی ہیں۔ بہت زیادہ افراتفری کا عالم تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ALEX LITTLEFIELD
Image caption دھماکے کے بعد افراتفری کا عالم

بی بی سی کی پیش کار سوفی راورتھ نے کہا کہ انھوں نے ایک عورت کو سٹریچر پر لیٹے دیکھا جس کے چہرے اور ٹانگوں پر جلنے کے نشانات تھے۔

24 سالہ ایلیکس لٹل فیلڈ نے کہا: 'میں پارسنز گرین ٹیوب سٹیشن کے قریب ہی تھا کہ لوگوں کو انتشار کے عالم میں پلیٹ فارم پر بھاگتے دیکھا۔ میں نے پولیس اہلکار اور فائر بریگیڈ والے دیکھے جو لوگوں کو پیچھے ہٹا رہے تھے۔

'میں نے لوگوں کا ہجوم اور مسلح پولیس والے دیکھے۔ بہت سے لوگ صدمے سے دوچار تھے۔'

میڈیا ٹیکنالوجی رچرڈ آئلمار ہال نے کہا کہ انھوں نے کئی لوگوں کو زخمی حالت میں دیکھا جنھیں بظاہر بھاگتے ہوئے لوگوں نے روند ڈالا تھا۔

انھوں نے کہا: ’پلیٹ فارم پر ایک عورت نے بتایا کہ انھوں نے ایک تھیلا دیکھا جس میں جھماکہ ہوا اور اس کے بعد دھماکہ۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں