یو اے ای پر میزائل داغیں گے اور سعودی ٹینکرز کو نشانہ بنائیں گے: حوثی باغی

یمن تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یمن میں حوثی باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات پر میزائل داغیں گے اور بحرہ احمر میں سعودی ٹینکرز کو نشانہ بنائیں گے۔

حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے باغیوں کے کنٹرول میں ٹی وی چینل المسیرہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'متحدہ عرب امارات اب حوثی میّائلوں کی رینج میں ہے'۔

’زندگی کے آخری دن بھیک مانگ کر گزار رہی ہوں'

سعودی عرب سے براہ راست تصادم کا خطرہ نہیں: ایران

برطانیہ کا سعودی عرب کو اسلحہ بیچنا قانونی

واضح رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس اتحاد میں متحدہ عرب امارات بھی ہے۔

عبدالمالک الحوثی نے کہا 'وہ کمپنیاں جو متحدہ عرب امارات میں ہیں یا جنھوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہ متحدہ عرب امارات کو محفوظ تصور نہیں کریں گے۔'

عبدالمالک الحوثی نے مزید کہا کہ ان کی سکیورٹی فورسز کے پاس جدید میزائل ٹیکنالوجی ہے جو شمال میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوب میں مکہ تک مار کر سکتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
جنگ زدہ یمن کے مصیبت زدہ بچے

ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی بحری فورسز کے پاس صلاحیت ہے کہ سعودی تیل کے تنصیبات اور بحرہ احمر میں موجود سعودی ٹینکرز کو نشانہ بنا سکے۔ انھوں نے یمن میں باغیوں کے کنٹرول میں حدیدہ پورٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش پر متنبہ کیا۔

خیال رہے کہ دو سال سے زائد عرصہ سے جاری حکومتی فوجوں اور حکومت مخالف حوثی باغیوں کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے صحت کی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں اور یمن کے محکمہ صحت کو ہیضے سے وبا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب نے اپنی اتحادیوں کے ساتھ مل کر تقریباً دو برس پہلے یمن میں باغیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا تاہم اب بھی یمن کے کئی علاقوں پر باغیوں کا قبضہ برقرار ہے۔

یمن کے معاملے پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی سے پہلے ہی شام کی صورتحال پر دونوں ممالک کے تعلقات تلخ ہو چکے تھے۔

چند ماہ پہلے سعودی عرب کی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ ایران کا رویہ تبدیل ہو سکے کیونکہ عراق، شام اور یمن جیسے ممالک میں ایران کی مداخلت اور عزائم بڑا خطرہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2015 میں یمن میں مجمموعی طور پر 1953 بچے ہلاک ہوئے جن میں 60 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سعودی اتحاد کے حملے بتائے گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں