حماس کا غزہ میں حکومتی کمیٹی کے خاتمے اور عام انتخابات کرانے پر رضامندی کا اظہار

حماس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

حماس نے مصر کی کوششوں کو سراہا ہے

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر حکومت کرنے والی کمیٹی کو تحلیل کرنے اور عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔

حماس کے بیان کے مطابق تنظیم اپنی حریف جماعت فتح کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے بھی کوشش کرے گی تاکہ ایک دہائی سے جاری اس تنازع کو ختم کیا جا سکے۔

دونوں جماعتوں کے سینیئر رہنما مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

فتح نے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور سلسلے میں مصر کی کوششوں کو سراہا ہے۔

مصر میں فتح کے وفد کے سربراہ اعظام ال احمد نے کہا کہ حماس کے اس قدم سے فلسطین میں سیاسی اتحاد مضبوط ہوگا۔

یاد رہے کہ 2007 میں ہونے والی پرتشدد چھڑپوں کے بعد فتح کا غزہ میں عمل دخل ختم ہوگیا تھا۔

اس کے بعد سے فلسطین کی ان دو مرکزی جماعتوں کی آپس میں مشترکہ حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

حماس نے 2006 میں ہونے والے آخری انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن صدر محمود عباس نے حماس کے وزیر اعظم کو 2007 کی جھڑپوں کے بعد برطرف کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے غزہ پر حماس کا کنٹرول رہا ہے جبکہ فتح کی مغربی کنارے کے ان حصوں پر حکومت ہے جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ حماس اور اس کے مسلح ونگ کو ابھی بھی اسرائیل، یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔