شمالی کوریا کی تنبیہ: ’پابندیاں ہمیں روک نہیں سکتیں‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی کوریا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس پر مزید پابندیوں اور دباؤ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ 'ہمارے ایٹمی پروگرام میں مزید تیزی آ جائے گی'۔

شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں 'انتہائی برے، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے'۔

دوسری جانب چین اور امریکی صدور نے عزم کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے عملدرآمد کے ذریعے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھایا جائے۔

شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ، جاپان کی تشویش

شمالی کوریا امریکہ کو ’شدید درد پہنچائے گا‘

شمالی کوریا جنگ کے لیے بیتاب ہے: امریکہ

شمالی کوریانے جمعہ کو میزائل فائر کیا تھا جو جاپان کی فضائی حدود میں سے گزرا تھا۔ یہ میزائل فضا میں 770 کلومیٹر کی بلندی پر گیا اور 3700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے جاپان کے شمالی ترین جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے گزرتا ہوا سمندر میں جا گرا۔

اس میزائل میں امریکہ فوجی اڈے گوام تک پہنچنے کی صلاحیت ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زمین سے مار طویل ترین فاصلے تک مار کرنے والا شمالی کورین میزائل ہے۔

شمالی کوریا کے اس قدم پر اقوام متحدہ نے نئی پابندیاں عائد کر دیں اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے اس قدم کی مذمت کی۔

شمالی کوریا کا بیان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے شمالی کوریا پر پابندیوں اور دباؤ میں اضافے صرف یہ ہو گا کہ ہم اپنے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی جانب کا سفر زیادہ تیزی سے طے کریں گے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کا مقصد 'شمالی کوریا کی عوام، نظام اور حکومت کو ختم کرنا ہے'۔

شمالی کوریا پر لگائی گئی پابندیوں پر چند ناقدین تنقید کرتے ہیں۔ ناقدین پابندیوں کے اثر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان پابندیوں کا فایدہ کیا ہے جب شمالی کوریا عالمی سطح پر تجارت کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو پر سے گزرتا ہوا سمندر میں جا کر گرا تھا اور اس واقعے کے بعد جاپانی عوام کو ہوشیار رہنے کی تنبیہ جاری کی گئی تھی۔

شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ جاپان کی فضائی حدود میں میزائل داغنا بحرالکاہل میں اس کے فوجی آپریشنز کا 'پہلا قدم' تھا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا مزید میزائل داغنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام پر حملے کی دھمکی کو بھی دہرایا تھا۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے چند ہفتے قبل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے ذریعے لانچ کرنے والے ہائیڈروجن بم بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی بارے میں